National

نقدی برآمدگی تنازع کے بعد جسٹس یشونت ورما مستعفی: صدر جمہوریہ کو استعفیٰ پیش

نقدی برآمدگی تنازع کے بعد جسٹس یشونت ورما مستعفی: صدر جمہوریہ کو استعفیٰ پیش

نئی دہلی: مبینہ طور پر غیر حساب شدہ نقدی کی برآمدگی کے تنازع کے درمیان یشونت ورما نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے 9 اپریل کو اپنا استعفیٰ دروپدی مرمو کو ارسال کیا۔ اپنے استعفیٰ نامے میں جسٹس ورما نے لکھا کہ وہ اپنی مجبوریوں کی تفصیل بیان کیے بغیر گہرے دکھ کے ساتھ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس منصب پر خدمات انجام دینے کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ جسٹس ورما اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ میں خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم مارچ 2025 میں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر آتشزدگی کے واقعے کے بعد ایک اسٹور روم سے جلی ہوئی حالت میں بڑی مقدار میں نقدی برآمد ہونے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔ اس واقعے کے بعد انہیں الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی تھی اور عدلیہ کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھے تھے۔ نقدی برآمدگی کے بعد جولائی 2025 میں 145 ارکانِ لوک سبھا اور 63 ارکانِ راجیہ سبھا نے جسٹس ورما کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی تھی۔ بعد ازاں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ججز (انکوائری) ایکٹ 1968 کے تحت ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تاکہ الزامات کی جانچ کی جا سکے، جبکہ راجیہ سبھا نے اس معاملے میں علیحدہ کارروائی سے انکار کر دیا تھا۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق 6 مارچ کو کمیٹی کی ازسرِ نو تشکیل کی گئی، جس میں جسٹس اراوند کمار، جسٹس شری چندرشیکھر اور سینئر وکیل بی وی آچاریہ شامل تھے۔ قبل ازیں جسٹس ورما نے اس تحقیقاتی کمیٹی کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا تھا، تاہم جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل بنچ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کسی ریلیف کے حقدار نہیں ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق جسٹس ورما کا استعفیٰ ایک اہم پیش رفت ہے، جو ممکنہ طور پر جاری مواخذے کی کارروائی اور تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments