National

میگھالیہ میں غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، 16 مزدور جاں بحق، وزیراعلیٰ کونارڈ سنگما نے دیا تحقیقات کا حکم

میگھالیہ میں غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، 16 مزدور جاں بحق، وزیراعلیٰ کونارڈ سنگما نے دیا تحقیقات کا حکم

میگھالیہ کے ضلع ایسٹ جینتیا ہلز کے تھانگسکائی علاقے میں واقع ایک مشتبہ غیر قانونی ریٹ ہول کوئلہ کان میں جمعرات کے روز زور دار دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 16 مزدور جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد افراد کے اب بھی کان کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ پولیس کے مطابق حادثے میں ایک شخص شدید جھلسنے سے زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ حادثہ ریاست میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف جاری مہم کے باوجود پیش آیا ہے، جس نے ایک بار پھر کان کنوں کی سلامتی اور انتظامیہ کی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکاس کمار نے بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کو تھانگسکائی علاقے میں پیش آیا، جہاں ریٹ ہول طرز کی کوئلہ کان میں اچانک دھماکہ ہو گیا۔ اس کے بعد کان کے اندر کام کر رہے متعدد مزدور پھنس گئے۔ ایس پی وکاس کمار کے مطابق: ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد کئی مزدور کان کے اندر پھنس گئے تھے۔ اس واقعے کے فوراً بعد ایس ڈی آر ایف، پولیس اور مقامی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ اب تک 16 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ ایک شخص جھلسنے کے باعث زخمی ہوا ہے۔ کئی افراد کے اب بھی کان میں پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔‘‘ ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی تین ٹیمیں بھی موقع پر تعینات کر دی گئی ہیں، جو ملبہ ہٹا کر پھنسے مزدوروں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ میگھالیہ کے وزیراعلیٰ کونارڈ کے سنگما نے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی جامع جانچ کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’’ایسٹ جینتیا ہلز میں پیش آئے اس افسوسناک کان حادثے سے انتہائی دل گرفتہ ہوں۔ اس المناک سانحے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ ریاستی حکومت نے اس واقعے کی مکمل جانچ کے احکامات دے دیے ہیں۔ ذمہ داری طے کی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انسانی جانوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں ریاست متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ واضح رہے کہ میگھالیہ میں ریٹ ہول کان کنی برسوں سے تنازع کا موضوع رہی ہے۔ یہ کان کنی کا ایک انتہائی خطرناک طریقہ ہے، جس میں تنگ سرنگوں کے ذریعے کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ اور نیشنل گرین ٹریبونل کی جانب سے اس طرز کی کان کنی پر پابندی کے باوجود غیر قانونی طور پر یہ سرگرمی بدستور جاری ہے، جس کے باعث اس طرح کے حادثات بار بار پیش آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ریٹ ہول کانوں میں ہوا کی ناقص نکاسی، زہریلی گیسوں کا اخراج اور اچانک دھماکوں کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے، جس کی وجہ سے مزدوروں کی جانیں شدید خطرے میں رہتی ہیں۔ حادثے کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں کہرام مچ گیا۔ جاں بحق مزدوروں کے اہل خانہ کان کے باہر جمع ہو گئے اور اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے لاشوں کے نکالے جانے کے بعد فضا مزید سوگوار ہو گئی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور لواحقین کو معاوضہ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ کان غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی تو کان مالکان، ٹھیکیداروں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے کان کنی کی سرگرمیوں پر کڑی نگرانی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ میگھالیہ کے تھانگسکائی علاقے میں پیش آنے والا یہ افسوسناک حادثہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ غیر قانونی اور غیر محفوظ کان کنی انسانی جانوں کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محض اعلانات کے بجائے سخت نگرانی، مؤثر قوانین اور عملی اقدامات کے ذریعے ایسے سانحات کی روک تھام کی جائے، تاکہ مزدوروں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments