National

’’میں یوگی نہیں ہوں کہ کیس ہٹوا لوں‘‘ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سوامی اویمکتیشورانند کا ریاستی حکومت پر طنز

’’میں یوگی نہیں ہوں کہ کیس ہٹوا لوں‘‘ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سوامی اویمکتیشورانند کا ریاستی حکومت پر طنز

پریاگ راج کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج (ریپ و پوکسو اسپیشل کورٹ) نے جیو‌تش پیٹھ کے شنکرآچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی اور ان کے شاگرد سوامی مکندانند گری کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے باقاعدہ جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد جھونسی تھانہ پولیس آئندہ قانونی کارروائی شروع کرے گی۔ دوسری جانب سوامی اویمکتیشورانند نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے فوری اور تیز رفتار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم یوگی آدتیہ ناتھ نہیں ہیں کہ اپنے اوپر لگے الزامات ہٹوا لیں۔‘‘ الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے سوامی اویمکتیشورانند نے کہا کہ ان کے خلاف درج مقدمہ مکمل طور پر جھوٹا ہے اور سچ جلد سامنے آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ خود ایک ہسٹری شیٹر ہے اور اس کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔ سوامی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان پر الزام کسی بیرونی شخص نے نہیں بلکہ رام بھدراچاریہ کے ایک شاگرد کی جانب سے لگایا گیا ہے۔ سوامی اویمکتیشورانند نے عدالت سے اپیل کی کہ معاملے کو غیر ضروری طور پر طول نہ دیا جائے اور جلد کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ الزامات کا ڈٹ کر سامنا کریں گے، تاہم پولیس جانچ پر مکمل اعتماد ظاہر نہ کرتے ہوئے پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تفتیشی ایجنسیوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج (پوکسو ایکٹ) ونود کمار چورسیا نے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ دونوں ملزمان کے خلاف قانونی طور پر مقدمہ درج کر کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے۔ عدالت کی ہدایت کے بعد جھونسی تھانہ پولیس اب ایف آئی آر درج کر کے قانونی عمل کا آغاز کرے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کی قانونی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ شاکمبھری پیٹھادھیشور اور شری کرشن جنم بھومی مکتی نرمان ٹرسٹ سے وابستہ آشوتوش برہمچاری نے 28 جنوری کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 173(4) کے تحت عدالت میں عرضی داخل کر کے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کے آشرم میں نابالغ بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات پیش آتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک سی ڈی عدالت کے حوالے کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ اس معاملے میں 13 فروری کو الزام لگانے والے دونوں نابالغوں کے بیانات عدالت میں ویڈیو گرافی کے ساتھ درج کیے گئے تھے۔ سماعت کے دوران عدالت نے پولیس رپورٹ کا بھی نوٹس لیا اور فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اب عدالت نے باضابطہ طور پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments