National

مسلم پرسنل لا بورڈ کا ملک گیر تحریک کا اعلان، یکساں سول کوڈ اور وندے ماترم کے معاملے پر تشویش

مسلم پرسنل لا بورڈ کا ملک گیر تحریک کا اعلان، یکساں سول کوڈ اور وندے ماترم کے معاملے پر تشویش

نئی دہلی، 22 جون:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلسِ عاملہ کے حالیہ اجلاس میں ملک اور ملت کی موجودہ صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد متعدد اہم فیصلے کئے گئے یہ اطلاع ایک پریس کانفرنس میں دی گئی۔ اس پریس کانفرنس کو مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، قومی ترجمان نے خطاب کیا۔ جاری ریلیز کے مطابق ان فیصلوں کا تعلق بالخصوص بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد (لنچنگ)، مساجد و مدارس کے خلاف انہدامی کارروائیوں، مسلمانوں کے مکانات اور آبادیوں پر بلڈوزر کارروائیوں، سرکاری تقریبات، اسکولوں اور امداد یافتہ مدارس میں وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی کوششوں، مختلف ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی پیش رفت اور کمال مولی مسجد / بھوج شالہ کے بارے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے سے ہے ۔ ریلیز کے مطابق مجلسِ عاملہ نے ملک و ملت کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے زیرِ انتظام ریاستوں میں مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو، مساجد، مدارس، قبرستانوں، پرسنل لا، بنیادی حقوق، بلکہ ان کے ایمان و عقیدہ تک مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ پورے ملک میں نفرت، تعصب اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی فضا منظم انداز میں پروان چڑھائی جا رہی ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ماحول کو ہوا دینے میں خود بی جے پی کے اعلیٰ عہدے داران بلکہ خود حکومت کے ذمہ داران بھی پیش پیش دکھائی دیتے ہیں، جبکہ نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیزی کے خلاف کوئی مو¿ثر قانونی کارروائی نہیں کی جاتی۔ مجلسِ عاملہ نے اس امر پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ ملت کی جان و مال، عزت و آبرو اور دین و ایمان پر ہونے والے منصوبہ بند حملوں کے باوجود سیکولر سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی برقرار ہے ، گویا مسلمان محض ایک ووٹ بینک بن کر رہ گئے ہیں۔ مجلسِ عاملہ نے فیصلہ کیا کہ ملت کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال، فرقہ وارانہ کشیدگی اور بنیادی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ایک جامع دستاویز تیار کرکے شائع کی جائے گی، تاکہ ملک کے باشعور، انصاف پسند اور جمہوری اقدار کے حامل طبقات کے ضمیر کو جھنجھوڑا جاسکے ۔ بورڈ نے واضح کیا کہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے حقوق کی پامالی صرف ایک طبقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات ملک کی جمہوری ساخت، سماجی ہم آہنگی اور ترقیاتی عمل پر بھی براہِ راست مرتب ہوتے ہیں؛ اس اعتبار سے یہ پورے ملک کا نقصان ہے ۔ کمال مولی مسجد مقدمہ کے سلسلے میں مجلسِ عاملہ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ تاریخی شواہد، ریونیو ریکارڈ، نوآبادیاتی دور کے سرکاری دستاویزات اور صدیوں پر محیط مسلم عبادتی روایت کے منافی ہے ۔ مزید برآں، یہ فیصلہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون (Places of Worship Act, 1991) کی روح سے بھی متصادم ہے ۔ مجلسِ عاملہ نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ کمال مولی مسجد کمیٹی نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور طے کیا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس قانونی جدوجہد میں مسجد کمیٹی کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ مجلسِ عاملہ نے وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی کوششوں کو دستورِ ہند کی دفعہ 25 سے متصادم قرار دیا۔ بورڈ نے واضح کیا کہ اگر مرکزی حکومت اس سلسلے میں کوئی ایسا قدم اٹھاتی ہے جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے ذریعے تمام شہریوں یا اسکولی طلبہ پر وندے ماترم پڑھنا لازم کیا جاتا ہے ، تو بورڈ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گا۔ اسی طرح مغربی بنگال حکومت کی جانب سے اسکولوں اور سرکاری امداد یافتہ و منظور شدہ مدارس میں وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کے فیصلے کو بھی مجلسِ عاملہ نے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے بیجوئے ایمینوئل بنام ریاستِ کیرالا (1986) کے منافی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اسے فوراً واپس لیا جائے ۔ مجلسِ عاملہ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس عبوری فیصلے کا خیرمقدم کیا جس میں مدارس میں وندے ماترم گانے کی حکومتی ہدایت پر روک لگا دی گئی۔ عدالت نے ابتدائی طور پر مانا ہے کہ اقلیتی برادری کے مذہبی عقائد اور احساسات کو نظرانداز کرتے ہوئے مدارس میں وندے ماترم گانا لازمی نہیں کیا جا سکتا اور اگر کوئی مدرسہ یا طالب علم ایسا نہ کرے تو اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی بھی نہیں کی جا سکتی۔ مجلسِ عاملہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وندے ماترم ایک شرکیہ گیت ہے جس کے بعض مضامین مسلمانوں کے عقیدہ¿ توحید سے متصادم ہیں، اس لئے مسلمانوں کے لئے اس کا پڑھنا شرعاً درست نہیں۔ بورڈ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ رواداری یا حب الوطنی کے نام پر اپنے ایمان و عقیدے پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ مجلسِ عاملہ نے بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے نام پر جاری قانون سازی کی کوششوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اتراکھنڈ اور گجرات کے بعد اب آسام، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں بھی یو سی سی کے نفاذ کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ بورڈ نے واضح کیا کہ یونیفارم سول کوڈ کوئی ایسا حکم نہیں جسے عدالتیں نافذ کرنے کی پابند ہوں، بلکہ یہ دستور کے Directive Principles میں شامل ایک غیر لازمی رہنما اصول ہے ۔ مزید یہ کہ یو سی سی کا جبری نفاذ دستورِ ہند کی دفعہ 25 میں دی گئی مذہبی آزادی سے متصادم اور ملک کے کثرت پسند و متنوع سماجی ڈھانچے کے خلاف ہے ۔ مجلسِ عاملہ نے فیصلہ کیا کہ جس طرح بورڈ نے اتراکھنڈ حکومت کے یو سی سی قانون کو نینی تال ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے ، اسی طرح دیگر ریاستوں میں بھی ایسے قوانین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ مجلسِ عاملہ نے یہ بھی طے کیا کہ مسلمانوں کو سماجی و سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیلنے ، دستوری تقاضوں کی پامالی، نفرت و عداوت کے فروغ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے ، مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو پر حملوں اور مساجد و مدارس کے انہدام کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ملک کے انصاف پسند، جمہوریت پسند اور امن پسند عناصر کو ساتھ لے کر ایک ملک گیر تحریک شروع کرے گا۔ اس مقصد کے لئے ایک مجلسِ عمل تشکیل دی جا رہی ہے ۔ اجلاس کی صدارت صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض جنرل سکریٹری بورڈ مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے انجام دیے ۔ اجلاس میں ملک کے طول عرض سے ارکان عاملہ نے شرکت فرمائی، جن میں بطور خاص نائیبین صدور مولانا ارشد مدنی، صدر جمعیت علما ئے ہند، مولانا عبیداللہ خان اعظمی، سابق ممبر پارلیمنٹ، جناب سید سعادت اللہ حسینی، امیر جماعت اسلامی ھند، مولانا اصغرعلی امام مہدی، امیر مرکزی جمیعت اہل حدیث، سکریٹریز مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی، مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی، قومی ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس،سینئر ایڈوکیٹس جناب یوسف حاتم مچھالا، جناب ایم آر شمشاد، ویمن ونگ کی کنوینر ایڈوکیٹ جلیسہ سلطانہ، بیرسٹر اسدالدین اویسی، ممبر پارلیمنٹ، جناب عارف مسعود، مولانامحمد ابوطالب رحمانی، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور مولانا خالد رشید فرنگی محلی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments