مودی حکومت میں ’بدعنوانی کا ایک نیا ماڈل ‘سامنے آیا ہے، مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت بھاگیرتھ چودھری نے اپنی ہی وزارت سے 99 لاکھ روپےکی سرکاری سبسڈی لیکر سب کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹ سے یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ راجستھان کے ڈیڈوانہ-کچا من ضلع میں واقع بھاگیرتھ چودھری کے کھیرے کے پولی ہاؤس کے لیے نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کی جانب سے تقریباً 99 لاکھ روپے کی سبسڈی منظور کی گئی ہے۔ تنازع اس بات پر کھڑا ہوا ہے کہ بھاگیرتھ چودھری خود اسی وزارتِ زراعت میں وزیر مملکت ہیں اور عہدے کے اعتبار سے نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کے نائب صدر بھی ہیں، جس نے اس سبسڈی کی منظوری دی۔ اسی وجہ سے اپوزیشن اس معاملے کو مفادات کے ٹکراؤ قرار دے رہی ہے۔یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا اور قائدِ حزبِ اختلاف ٹیکارام جولی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب مرکزی وزیر بھاگیرتھ چودھری نے خود سامنے آکر ان الزامات پر وضاحت پیش کی ہے اور اپنے خلاف لگائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سبسڈی مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق حاصل کی ہے۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر بھاگیرتھ چودھری پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے اس معاملے کو ’مفادات کے ٹکراؤ‘ کی ایک بڑی مثال قرار دیا۔اشوک گہلوت نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ’’مودی حکومت میں بدعنوانی کے نئے ماڈل اور مفادات کے ٹکراؤ کی ایک اور بڑی مثال ملک کے سامنے آئی ہے۔ جب ملک کے وزیر مملکت برائے زراعت ہی اپنے ہی وزارت کے تحت چلنے والی اسکیم سے اپنے کھیت کے لیے تقریباً ایک کروڑ روپے کی سبسڈی منظور کرا لیں، تو اسے آپ کیا کہیں گے؟‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ایک طرف عام کسان سرکاری دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف وزراء اور پسندیدہ افسران کے خاندانوں پر کروڑوں روپے کی سرکاری نوازشیں کی جا رہی ہیں۔‘‘ڈوٹاسرا بولے: ’کسانوں کا حق چھین لیا گیا، ملک جواب چاہتا ہے‘ راجستھان کانگریس کے ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس معاملے کو براہِ راست کسانوں کے حقوق کی پامالی قرار دیا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا:’’مودی حکومت میں لوٹ مچی ہوئی ہے… مندروں کے چندے کی لوٹ، زمینیں کوڑیوں کے مول حاصل کرنے کی لوٹ، اور اب کسانوں کی سرکاری سبسڈی پر قبضہ کرنے کی لوٹ۔ ایک طرف کسان در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم مودی کے وزیر اپنی ہی وزارت کی اسکیم کے تحت تقریباً ایک کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کر رہے ہیں۔”ڈوٹاسرا نے مزید کہا کہ سب سے سنگین سوال یہ ہے کہ وزیر مملکت برائے زراعت ہونے کے ناطے بھاگیرتھ چودھری اسی بورڈ کے عہدہ بہ عہدہ نائب صدر بھی ہیں، جس نے اس اسکیم کی منظوری دی۔ ان کے مطابق اس اسکیم سے کسی مستحق اور اہل کسان کو فائدہ مل سکتا تھا، لیکن اس کا حق مارا گیا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ راجستھان اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ٹیکارام جولی نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مرکزی اور ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا:’’جو نظر آئے گا، وہ خوب کھائیں گے‘ کا بی جے پی ماڈل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پہلے چندے کی مبینہ چوری، پھر زمینوں کے مبینہ گھوٹالے اور اب مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت کی کھیرے کی سبسڈی سے متعلق مبینہ ‘مہا گھوٹالہ’۔ یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بدعنوانی اب اقتدار کے محفوظ نظام کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ’’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ کا وعدہ کرنے والی قیادت آج اپنی ہی پارٹی کے لیڈرؤں پر لگنے والے سنگین الزامات پر خاموش کیوں ہے؟ کیا یہ خاموشی بدعنوانی کی تائید نہیں؟‘‘
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات