National

مولانا بدرالدین اجمل کے لئے مصیبت بن گیا آسام اسمبلی الیکشن، جمعیۃ علماء ہند نے نوٹس جاری کرکے 24 گھنٹے میں طلب کیا جواب

مولانا بدرالدین اجمل کے لئے مصیبت بن گیا آسام اسمبلی الیکشن، جمعیۃ علماء ہند نے نوٹس جاری کرکے 24 گھنٹے میں طلب کیا جواب

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند نے اپنی اصولی پالیسی کی روشنی میں جمعیۃ علماء آسام کے صدر، آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) کے قومی صدراور سابق رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمی سے حالیہ انتخابی مہم کے دوران ایک فرقہ پرست سیاسی جماعت کے ساتھ مبینہ اتحاد اوراعلانیہ حمایت کے سلسلے میں 24 گھنٹوں کے اندرتحریری وضاحت طلب کی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی جانب سے جاری کرہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جمعیۃ کے اکابررحمہم اللہ نے آزادی کے فوری بعد مجلس عاملہ کے تاریخی اجلاس منعقدہ 17۔ 18 اگست 1951، زیرصدارت شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ، انتخابات اورووٹ سے متعلق ایک واضح، اصولی اورغیرمبہم پالیسی منظورفرمائی تھی، جس کی توثیق بعد کے متعدد اجلاسوں میں بھی کی جاتی رہی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اپنی پالیسی میں طے کیا تھا کہ جمعیۃ کے اراکین اورذمہ داران کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ کسی بھی فرقہ پرست جماعت سے کسی قسم کی وابستگی نہ رکھیں۔ اس کے برعکس انہیں صرف ایسی جماعتوں اورقوتوں کے ساتھ رہنے کی ہدایت دی گئی تھی، جوقومی یکجہتی، آئینی اقدار، جمہوری اصولوں اورتکثیری معاشرتی ڈھانچے کی بقا کی حامی ہوں۔ اس کے برعکس حالیہ انتخابی مہم میں مولانا بدرالدین اجمل قاسمی نے ایک فرقہ پرست پارٹی کے ساتھ سیاسی اتحاد اورہم نوائی کی ہے اوراس کی اعلانیہ حمایت حاصل کی ہے جوجمعیۃ علماء ہند کی پالیسی اوراس کے بنیادی اصولوں سے صریح انحراف ہے۔ اس پس منظرمیں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندراپنا تحریری جواب مرکزی دفترکوارسال کریں اوریہ واضح کریں کہ مذکورہ طرزِعمل کن مقاصد، حالات اوربنیادوں پراختیارکیا گیا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments