National

مودی کی دراندازی اور معاشی اصلاحات کے تعلق سے کانگریس اور ترنمول پر شدید تنقید

مودی کی دراندازی اور معاشی اصلاحات کے تعلق سے کانگریس اور ترنمول پر شدید تنقید

نئی دہلی، 5 فروری: وزیر اعظم نریندر مودی نے الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ کے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) پروگرام اور حکومت کی معاشی اصلاحات سمیت ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کی مخالفت پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کی سوچ اور سیاست پر شدید تنقید کی۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے درمیان صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے ، مسٹر مودی نے ایس آئی آر کی مخالفت پر ترنمول کانگریس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ترنمول کے لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ترنمول زوال کے نئے معیار قائم کر رہی ہے ۔ انہوں نے مغربی بنگال کی ترنمول حکومت کو ایک "بے رحم حکومت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کا مستقبل اندھیرے میں ڈال رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے امیر ترین ممالک بھی اپنے ہاں سے غیر قانونی شہریوں کو نکال رہے ہیں، لیکن ترنمول کے لوگ دراندازوں کی وکالت کے لیے عدالت جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درانداز ملک کے نوجوانوں کے مواقع چھین رہے ہیں، قبائلیوں کی زمینیں ہڑپ رہے ہیں اور ہماری بیٹیوں اور بیٹوں کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن، خاص طور پر کانگریس پر یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے حوالے سے گمراہی پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دہائیوں تک اقتدار میں رہی ہے ، لیکن اس نے 'ڈیلز' (معاہدوں) کے نام پر صرف اپنی جیبیں بھرنے کا کام کیا ہے ۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں ڈیل کا دوسرا نام 'بوفورس' بن گیا تھا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 سے پہلے بینکنگ سیکٹر میں کانگریس لیڈروں کے فون جانے پر کروڑوں روپے کے قرضے دیے جاتے تھے اور قرض لینے والے اسے ہضم کر جاتے تھے ۔ 'انڈیا الائنس' (یو پی اے ) کے دور میں بینکنگ نظام تباہی کے دہانے پر تھا اور ڈوبے ہوئے قرضوں (این پی اے ) کے پہاڑ کھڑے ہو گئے تھے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "چیلنج بڑا تھا، لیکن ہم نے سمجھداری سے اصلاحات کیں، شفاف نظام بنایا اور بینکوں کا انضمام کیا۔ اس طرح بینکوں کو بیماری سے نجات ملی۔" انہوں نے اپنی حکومت کی 'مدرا لون اسکیم' کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم کے تحت 30 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے قرضے دیے جا چکے ہیں۔ نوجوانوں اور خواتین کو بغیر کسی ضمانت کے مدرا لون کی سہولت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنا کاروبار کر سکیں۔ حکومت نے بینکنگ نظام میں بہتری لا کر این پی اے کو ایک فیصد سے بھی نیچے گرا دیا ہے اور بینکوں کا منافع ریکارڈ سطح پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سرکاری اداروں (پی ایس یو) کی ذہنیت بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ماضی میں اپوزیشن ان کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلاتی تھی اور لائف انشورنس کارپوریشن، ایس بی آئی اور انڈیا ایروناٹک لمٹیٹید(ایچ اے ایل) کے گیٹ کے سامنے مظاہرے کرائے جاتے تھے ۔ لیکن آج یہ عوامی شعبے کے ادارے ریکارڈ منافع کما رہے ہیں اور 'میک ان انڈیا' کو تقویت دے رہے ہیں۔ یہ ادارے ریکارڈ تعداد میں روزگار فراہم کر کے دنیا کو اپنی طاقت دکھا رہے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ "کانگریس نے کسانوں کے ساتھ غداری کی۔ ملک میں 10 کروڑ کسان ایسے ہیں جن کے پاس دو ہیکٹر سے کم زمین ہے ، لیکن کانگریس نے ان پر توجہ نہیں دی۔ ہم نے 'کسان سمان ندھی' کے تحت ایسے کسانوں کو چار لاکھ کروڑ روپے دیے ہیں۔" انہوں نے کسانوں کے لیے مختلف پہلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسانوں میں نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں اور وہ ہندوستان کی توقعات کے مطابق نتائج دیں گے ۔ معاشی عدم مساوات کے معاملے پر کانگریس پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود کو "راجا" کہلوانے والے کانگریس کے ایک رکن (دگ وجے سنگھ) آج معاشی عدم مساوات کی باتیں کر رہے ہیں۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments