National

مودی کابینہ میں توسیع کی قیاس آرائیاں، ٹی ایم سی ۔ شیو سینا کے باغیوں نام زیرغور

مودی کابینہ میں توسیع کی قیاس آرائیاں، ٹی ایم سی ۔ شیو سینا کے باغیوں نام زیرغور

پرائم منسٹر نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی کابینہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنظیمی ڈھانچے میں آئندہ چند دنوں میں ردوبدل اور توسیع ہوسکتی ہے۔ذرائع کے مطابق مرکزی کابینہ کی توسیع اور بی جے پی کی تنظیمی سطح پر ردوبدل کے حوالے سے سنجیدگی سے غور و خوض کیا جارپا ہے۔ اس عمل کے تحت بعض نئے چہروں کو کابینہ میں شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ کچھ موجودہ وزراء کی ذمہ داریاں بھی تبدیل کی جاسکتی ہیں ۔ بی جے پی کا مقصد آئندہ انتخابات اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور تنظیم کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم کرنا بتایا جا رہا ہے ۔ پارٹی قیادت علاقائی توازن، سماجی نمائندگی اور اتحادی جماعتوں کی شمولیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے نئی ٹیم تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ سیاسی پیش رفت کے بعد این ڈی اے مزید مضبوط ہوا ہے۔ اسی لیے اتحادی جماعتوں اور حال ہی میں این ڈی اے میں شامل ہونے والے لیڈروں کو بھی مرکزی حکومت میں نمائندگی دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔اسی سلسلے میں مہاراشٹر اور مغربی بنگال کے چند اہم لیڈروں کے نام زیر غور ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شیو سینا (شندے دھڑا) کے رکن پارلیمنٹ شریکانت شندے کو مرکزی کابینہ میں کابینی وزیر کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم سی سے علیحدگی اختیار کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کاکولی گھوش، سدیب بندوپادھیائے اور شتابدی رائے کے ناموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جن میں سے کسی ایک کو مرکزی کابینہ میں جگہ مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) سے الگ ہونے والے رکن پارلیمنٹ سنجے دینا پاٹل کا نام بھی ممکنہ وزراء کی فہرست میں شامل بتایا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق این ڈی اے اپنے نئے اتحادیوں اور حامی لیڈروں کو مناسب نمائندگی دے کر اپنے سیاسی دائرہ اثر کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق صرف نئے وزراء کی تقرری ہی نہیں بلکہ بعض موجودہ وزراء کی ذمہ داریاں بھی تبدیل کی جا سکتی ہیں۔اتر پردیش اور دہلی بی جے پی کی قیادت سنبھال چکے پنکج چودھری اور ہرش ملہوترا کو تنظیمی امور میں زیادہ فعال کردار دینے کے لیے مرکزی حکومت سے فارغ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان کی جگہ نئے چہروں کو وزارت دی جا سکتی ہے۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments