National

مودی حکومت نے نو برسوں میں 100 لاکھ کروڑ کا قرض لیا: سندیپ پاٹھک

نئی دہلی، 05 جنوری: عام آدمی پارٹی (آپ) کے رکن سندیپ پاٹھک نے پیر کو راجیہ سبھا میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے گزشتہ نو برسوں میں 100 لاکھ کروڑ روپے کا قرض لیا ہے، جب کہ 67 برسوں میں 14 وزرائے اعظم کی حکومتوں نے 55 لاکھ کروڑ کا قرض لیا ہے۔ مسٹر پاٹھک نے آج صدر جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں گزشتہ 45 برسوں میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ حکومت سے بے روزگاری کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو انہیں ایک ہی جواب ملتا ہے کہ یہ ایک مسلسل عمل ہے اور مشن موڈ میں کام جاری ہے۔ مسٹر پاٹھک نے کہا کہ حکومت بار بار 'ایک بھارت شریشٹھ بھارت' کا نعرہ دیتی ہے، لیکن اس کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا جا رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ محض 'نعرہ' ہی رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریلوے کو بہتر کرنے کے بجائے چند منتخب اسکیمیں چلا کر صرف ایک روشن تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کے رکن نے کہا کہ ملک کو بہتر بنانے کے لیے رام راجیہ کے تصور کو اپنانا ہوگا اور اس کے لیے ضروری ہے کہ سب مل کر ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ امرتکال کے امکانات بے پناہ ہیں، لیکن کیا اس کے لیے خاطرخواہ کام ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک بہتر ہندوستان تبھی بنے گا جب سب کو ہر شعبے میں یکساں مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 'پیچ ورک' کر رہی ہے، کچھ پیسہ ادھر اور کچھ وہاں لگا رہی ہے، لیکن سب یہ کچھ کرنے کے عمل میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی کتنی انکم ہے، وہ کتنا خرچ کر رہے ہیں اور کتنی بچت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی کس آمدنی کے معاملے میں ہندوستان بہت پیچھے ہے۔ مہنگائی اتنی زیادہ ہے کہ ہر شخص کی پلیٹ میں یکساں کھانا نہیں ہوتا۔ اشیائے خوردونوش کی افراط زر کی شرح تقریباً نو فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آمدنی کم بڑھی ہے اور مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، اس سے مہنگائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best
Good
Okay
Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments