کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے غزہ جنگ، اسرائیل اور ہندستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انگریزی اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع اپنے ایک مضمون میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ہندوستان نے اپنی روایتی اور متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھی ہوتی تو مغربی ایشیا میں اس کا کردار کہیں زیادہ مؤثر ہوتا۔ سونیا گاندھی کا کہنا ہے کہ آج ہندوستان پورے خطے میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہوتا، لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا اور پاکستان کا کردار بڑھ گیا۔ سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ہندوستان نے کئی دہائیوں تک فلسطین، ایران اور مغربی ایشیا کے ممالک کے ساتھ متوازن اور قابل اعتماد تعلقات قائم رکھے تھے، لیکن موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے سبب یہ صورتحال بدل گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی خاموشی اور اسرائیل کی جانب جھکاؤ نے ہندوستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان اپنی روایتی خارجہ پالیسی پر قائم رہتا تو مغربی ایشیا میں کسی بھی بڑے تناؤ یا ایران-امریکہ جیسے تصادم کی صورت میں فطری ثالث کا کردار ادا کر سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی صورت میں پاکستان کو آگے آنے کا موقع ہی نہ ملتا۔ سونیا گاندھی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ہندوستان نے اپنے تاریخی شراکت داروں فلسطین، ایران اور وسیع تر مغربی ایشیا سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔ ان کے مطابق اس سے ہندوستان نے نہ صرف اپنی اخلاقی حیثیت کو کمزور کیا ہے بلکہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اس خلا سے پاکستان نے فائدہ اٹھایا اور خود کو ایک ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان جیسے ملک کے پاس تمام فریقوں کے ساتھ مکالمے کا طویل تجربہ اور قابل اعتماد تعلقات رہے ہیں۔ ایسے میں علاقائی کشیدگی کے دوران فطری طور پر ہندوستان کا کردار زیادہ مؤثر ہو سکتا تھا، لیکن موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی نے اس امکان کو کمزور کر دیا۔ اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کو لے کر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بچوں اور عام شہریوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں دنیا بھر میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اسرائیلی کارروائی کو فلسطینیوں کے وجود پر حملہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ہزاروں بچے ہلاک ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں بچے زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ کے بیشتر اسکول اور طبی ادارے تباہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث انسانی بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیا گیا حملہ مکمل طور پر ناقابل قبول اور قابل مذمت تھا، لیکن اس کے جواب میں اسرائیل کی فوجی کارروائی ضرورت سے کہیں آگے بڑھ گئی اور اب یہ ایک وسیع انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
Source: Social Media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات