منی پور ایک بار پھر خوف و بے چینی کا ماحول ہے ۔ گزشتہ کئی ماہ سے تشدد اور نسلی تنازعات کا شکار اس ریاست میں اب چھ ناگا افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے سے حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔جن خاندانوں کو امید تھی کہ ان کے پیارے کسی نہ کسی طرح واپس لوٹ آئیں گے، انہیں اب ان کی موت کی خبر ملی ہے۔کانگ پوکپی ضلع کے جنگلاتی اور پہاڑی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن چلایا اور لاشیں برآمد کیں ۔ ان افراد کا 13 مئی سے کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔اس واقعے نے صرف ناگا برادری ہی نہیں بلکہ پورے شمال مشرقی بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔یونائیٹڈ ناگا کونسل نے اسے انسانیت پر حملہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب عوام کے ذہنوں میں یہ سوال مزید گہرا ہو گیا ہے کہ آخر منی پور میں اتنے عرصے سے جاری تشدد کیوں نہیں رک پا رہا۔جس ریاست میں امن کی بحالی کے دعوے کیے جا رہے تھے، وہاں اب ایک بار پھر بند، احتجاج اور سیاسی محاذ آرائی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اس پورے واقعے نے منی پور کی سیاست کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ناگا تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے اور بعض باغی گروہوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے نائب وزیر اعلیٰ نیمچا کیپگین کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔ یونائیٹڈ ناگا کونسل کا دعویٰ ہے کہ جن کوکی گروہوں پر اغوا اور قتل کا شبہ ہے، ان کا تعلق ان تنظیموں سے ہے جو حکومت کے ساتھ معاہدے میں شامل ہیں۔ایسے میں عوام کا غصہ صرف مبینہ ملزمین کے خلاف نہیں بلکہ انتظامی نظام کے خلاف بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ریاست میں پہلے ہی نسلی کشیدگی عروج پر تھی اور اب ان لاشوں کی برآمدگی نے ماحول کو مزید خوف ناک بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ خوف کا شکار ہیں اور ناگا برادری نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ • یونائیٹڈ ناگا کونسل نے ناگا اکثریتی علاقوں میں 24 گھنٹے کے بند کی کال دی ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ صرف احتجاج نہیں بلکہ انصاف کا مطالبہ ہے۔ متعدد تنظیموں نے بھی یو این سی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ناگا برادری کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ جن افراد کو اغوا کیا گیا تھا، انہیں انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ اسی لیے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انتظامیہ پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ • منی پور پولیس، آسام رائفلز اور سی آر پی ایف کی تقریباً 15 ٹیموں نے مسلسل 24 گھنٹے تک آپریشن چلایا۔ اس کے بعد کانگپوکپی ضلع کے دشوار گزار علاقوں سے چھ لاشیں برآمد کی گئیں۔پولیس کے ڈائریکٹر جنرل مکیش سنگھ نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی افراد ہیں جنہیں 13 مئی کو اغوا کیا گیا تھا۔فی الحال لاشوں کی شناخت اور قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی ادارے اب اس واقعے میں ملوث مشتبہ گروہوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات