National

ملک میں تعلیم کے نام پر جاری 'لوٹ کے نظام' کو بدلنے کی سخت ضرورت: راہل گاندھی

ملک میں تعلیم کے نام پر جاری 'لوٹ کے نظام' کو بدلنے کی سخت ضرورت: راہل گاندھی

کوٹہ (راجستھان)، 17 جون : کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ملک کے موجودہ تعلیمی نظام کو 'لوٹ کا سسٹم' قرار دیتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ یہ نظام بچوں کے خوابوں اور ملک کے مستقبل کے مطابق نہیں ہے ، اس لیے اسے بدلنے کی اشد ضرورت ہے ۔ مسٹر گاندھی نے آج یہاں منعقدہ ایک بڑی ریلی میں 'طلبہ کی گونج' پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کا ڈھانچہ پرانا اور کمزور ہے اور اس میں بچوں کو ان کی مرضی کے مطابق مواقع نہیں مل رہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے مستقبل کے لیے شروع کی گئی اس مہم میں ملک کے عوام کو آگے آنا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری بچوں اور ان کے اہل خانہ پر بھاری مالی بوجھ ڈال رہی ہے اور ایک سال میں ان امتحانات کی تیاری پر جتنا خرچ ہوتا ہے ، وہ ملک کے تعلیمی بجٹ کے برابر یا اس سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے چند طلبہ و طالبات کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران انہوں نے کئی بچوں سے بات کی تو سب نے کہا کہ وہ انجینئر، ڈاکٹر وغیرہ بننا چاہتے ہیں، لیکن جب انہوں نے ان میں سے کچھ بچوں کو تھوڑی دیر کے لئے ہیلی کاپٹر سر کرنے کو کہا تو اس کے بعد جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو انہوں نے پائلٹ بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی خواہشات اور موجودہ تعلیمی نظام کے درمیان بڑا فرق ہے اور نظامِ تعلیم ایسا ہونا چاہیے جو بچوں کو اپنی پسند کے مطابق مستقبل منتخب کرنے کا موقع دے ۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ نجی اسکولوں، ٹیوشن مراکز اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے نام پر خاندانوں سے بھاری رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پانچ بڑی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری پر ہر سال تقریباً 3.5 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں، انکا کہنا تھا کہ بچوں کے ذریعہ ایک سال میں اپنی تیاری پر خرچ کی جانے والی رقم کئی وزارتوں کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے ۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments