جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے ملک میں مارشل لا کے نفاذ پر معزول صدر یون سک یول کو عہدے سے ہٹا دیا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کی آئینی عدالت کے 8 ججز نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی توثیق کر دی۔ جنوبی کوریا آئینی عدالت نے کہا کہ مارشل لا کے اعلان اور فوج کو پارلیمنٹ بھیجنے سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی، صدر کی غیر آئینی، غیر قانونی کارروائیاں جمہوریت کے لیے خطرہ تھیں۔ عدالت نے کہا کہ یون سک یول نے فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا میں 60 دن کے اندر نیا صدارتی انتخاب کرایا جائے گا۔ یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے 3 دسمبر 2024 کو ملک میں مختصر مارشل لا لگایا تھا جس کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی، اپوزیشن جماعت کی صدر کے مواخذے کی پہلی تحریک ناکام ہو گئی تھی جس پر اپوزیشن اتحاد کی جانب سے دوسری بار صدر کے مواخذے کی تحریک پیش کی گئی جسے منظور کر لیا گیا اور صدر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
Source: social media
امریکہ پیٹریاٹ میزائل عارضی طور پر جنوبی کوریا سے مشرق وسطیٰ منتقل کر رہا ہے: رپورٹ
’وہ گھبرا گئے‘ چین کے امریکا پر جوابی ٹیرف پر ٹرمپ کا ردعمل
شام میں اسرائیل کے ساتھ مقابلہ نہیں چاہتے: ترکیہ
سمندری راستے سے رواں برس 5 ہزار سے زائد تارکین وطن برطانیہ پہنچ گئے
سلواڈور کی جیل میں قید وینزویلا کے تارکین جنہیں ’ٹیٹوز کی وجہ سے مجرم سمجھا گیا‘
ہیتھرو ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیا گیا،فلائٹ آپریشن جزوی بحال
مودی کی بنگلادیشی عبوری رہنما محمد یونس سے ملاقات
کینیڈا نے امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا، کئی ممالک کی جوابی اقدامات کی تیاریاں
اسرائیلی حملوں سے غزہ میں 39 ہزار سے زائد بچے یتیم، 18 ہزار شہید ہوئے
ملک میں مارشل لا کا نفاذ، جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے صدر کو عہدے سے ہٹا دیا
کینیڈا نے امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیا، کئی ممالک کی جوابی اقدامات کی تیاریاں
غزہ جنگ : امریکہ کے بعد برمنگھم میں بھی یونیورسٹی طلبہ کے خلاف کارروائی
شام کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اسرائیلی کوششیں قابل مذمت ہیں: سعودی عرب
ٹیرف کے اعلان کے بعد امریکی مارکیٹ 5 سال کی کم ترین سطح پر، عالمی منڈی میں بھی بھونچال