ایم ایل اے قاسم صدیقی ممتابنرجی کی ترنمول میں لوٹ آئے
اپوزیشن لیڈر ریتبرتو بندوپادھیائے کی قیادت والی ترنمول' سے امرڈانگا کے ایم ایل اے قاسم صدیقی کے کالی گھاٹ دھڑے میں جانے پر کنال گھوش نے 'خفیہ بیلٹ' میں فلور ٹیسٹ کا مطالبہ کیا۔ تاہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ریتبرتو بندوپادھیائے نے جوابی کہا، "ہم نے فلور ٹیسٹ کا مطالبہ قبول کر لیا۔ یہ کسی بھی دن ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ (یعنی کنال گھوش) نہ تو اسمبلی کے اسپیکر ہیں اور نہ ہی ہائی کورٹ کے جج۔ یہ کیسے طے ہوگا کہ فلور ٹیسٹ کب ہوگا؟ اور فلور ٹیسٹ کبھی خفیہ نہیں ہوتا۔" اس کے بعد کنال کی سابقہ ایم پی کے دوران قید کا حوالہ دیتے ہوئے ریتبرتو بندوپادھیائے نے طنز بھی کیا۔
پیر کو قاسم صدیقی کو ساتھ لے کر اسمبلی کے پریس کونے میں کنال نے مطالبہ کیا، "ممتا بندوپادھیائے کی قیادت والے کل گھاٹ دھڑے میں ایک اور رکن واپس آ گیا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ ثابت ہو کہ کس طرف کتنے تری نامول ایم ایل اے ہیں۔" تاہم اپوزیشن لیڈر ریتبرتو بندوپادھیائے نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے جوابی کہا، "قاسم صدیقی تو کل گھاٹ میں ہی تھے۔ وہ ہماری طرف تو آئے ہی نہیں۔" اس کے بعد انہوں نے قاسم صدیقی پر طنز کرتے ہوئے کہا، "میں ان سے کہوں گا، پہلے ایک بار امرڈانگا جائیں، ووٹرز انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ جیتنے کے بعد تو علاقے میں گئے ہی نہیں۔ کم از کم ایک بار تو جائیں۔"
پیر کو اسمبلی میں 21 جولائی کے شہید بنگاو¿ں کے رنجیت داس کے اہل خانہ اپوزیشن لیڈر سے ملنے آئے۔ رنجیت کے بیٹے رجت کو نوکری مل گئی تھی لیکن وہ چلی گئی تھی۔ اس نوکری کی بحالی کے ساتھ ساتھ کمیشن کی سفارش کے مطابق 25 لاکھ روپے دینے کی درخواست کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ریتبرتو بندوپادھیائے نے وزیر اعلیٰ ش±وویندو ادھیکاری کو خط بھی دیا۔
ایم ایل اے قاسم صدیقی ممتابنرجی کی ترنمول میں لوٹ آئے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments