National

مغربی ایشیا پر اختلافات کے باعث برکس میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا؛ یکطرفہ پابندیوں اور دہشت گردی کی سخت مذمت

مغربی ایشیا پر اختلافات کے باعث برکس میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا؛ یکطرفہ پابندیوں اور دہشت گردی کی سخت مذمت

نئی دہلی، 15 مئی : برکس کے وزرائے خارجہ کے میٹنگ میں جمعہ کو مغربی ایشیا کے بحران سے جڑے مسائل پر اختلافات کی وجہ سے باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا بلکہ اس کی جگہ جاری کردہ 'آ¶ٹ کم ڈاکیومنٹ' میں غزہ جنگ بندی کی حمایت، یکطرفہ پابندیوں اور دہشت گردی کی سخت مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کی بھرپور وکالت کی گئی۔برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کی ہندستان کی صدارت میں دو روزہ میٹنگ کے اختتام پر جاری کردہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اراکین نے عالمی اور علاقائی اہم مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ انہوں نے سیاسی اور سکیورٹی، اقتصادی اور مالیاتی، ثقافتی اور عوامی رابطوں کے تین ستونوں کے تحت برکس اسٹریٹجک شراکت داری کے ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے باہمی احترام اور سمجھ بوجھ، مساوات، یکجہتی، کشادگی، شمولیت اور اتفاق رائے کے برکس جذبے کے تئیں بھی اپنے عزم کو دہرایا۔ وزارت خارجہ میں سکریٹری (اقتصادی تعلقات) سدھاکر دلیلا نے بعد میں پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب میں کہا کہ میٹنگ کے نتائج کے بارے میں مناسب دستاویز جاری کی گئی ہے جو تمام اراکین کے مشترکہ نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ برکس سربراہ اجلاس کے لیے ایک اچھا پس منظر فراہم کرے گی اور امید ہے کہ سربراہ اجلاس کے دوران اتفاق رائے کی راہ ہموار کرے گی ۔ اس اجلاس کو ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلاف رائے نے ایک متفقہ پوزیشن تک پہنچنے سے روک دیا۔ ایران چاہتا تھا کہ برکس امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی اداروں کی سیاست کرنے‘ کے خلاف مزاحمت کریں اور زیادہ مضبوط موقف اختیار کریں۔ لیکن متحدہ عرب امارات سمیت بعض ارکان نے اس نقطہ نظر سے اختلاف کیا۔ آخر میں، انڈیا، جس کے پاس اس وقت برکس کی صدارت ہے نے مشترکہ اعلامیے کے بجائے صرف ایک ’چیئرمین کا بیان‘ جاری کیا، یہ اقدام عام طور پر اس وقت اٹھایا جاتا ہے جب اراکین کسی حتمی متن پر متفق نہیں ہو سکتے۔ اجلاس کی صدارت کا بیان، جو انڈین وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیا گیا، میں کہا گیا کہ ’مغربی ایشیا، مشرق وسطی کے خطے کی صورت حال پر کچھ اراکین کے درمیان مختلف خیالات تھے۔‘ یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ توسیع شدہ برکس، جس میں اب ایران، متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں، کو سیاسی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر جب اس کے اراکین علاقائی بحرانوں میں مختلف محاذوں پر ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments