National

میرا نام محمد دیپک ہے،" کوٹ دوار بابا تنازعہ کے بعد سرخیوں میں رہنے والے باڈی بلڈر معاملہ میں کیس درج

میرا نام محمد دیپک ہے،" کوٹ دوار بابا تنازعہ کے بعد سرخیوں میں رہنے والے باڈی بلڈر معاملہ میں کیس درج

دہرادون، اتراکھنڈ: 26 جنوری کو اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں بظاہر ایک معمولی جھگڑا اس وقت بڑا تنازعہ بن گیا جب بجرنگ دل سے وابستہ کچھ نوجوان ایک مسلمان شخص کی دکان پر پہنچے اور دکان کے نام پر ہنگامہ شروع کردیا۔ الزام ہے کہ بابا کے نام سے دکان تھی۔ سدھابلی بابا کوٹ دوار میں ہندوؤں کا ایک قابل احترام دیوتا ہے۔ نوجوانوں نے بزرگ دکاندار پر نام بدلنے کا دباؤ ڈال کر ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اس ہنگامے کے درمیان، ایک نوجوان اچانک منظر میں داخل ہوتا ہے، اس کی موجودگی پوری صورت حال کو بدل دیتی ہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’’اطلاع ملی ہے کہ ان میں سے زیادہ تر دہرادون اور ہریدوار سے آئے تھے اور وہ خود کو بجرنگ دل کا رکن ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے۔ پوڑی گڑھوال کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سرویش پنوار نے کہا کہ ایف آئی آر درج کی گئی کیونکہ پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے اور انہوں نے واقعہ کو دیکھا تھا۔ "ہم نے ابتدائی تنازعہ کے بارے میں دکاندار کی شکایت پر ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دیپک کمار نے شکایت درج کروائی تو اسے اسی ایف آئی آر میں شامل کیا جائے گا،"ایف آئی آر کے مطابق، گروپ نے پولیس اہلکاروں کو ڈرایا، پولیس کی رکاوٹ ہٹا دی اور نعرے لگاتے ہوئے کوٹ دوار بازار کی طرف بھاگے۔ ایف آئی آر میں افسر کے حوالے سے بتایا گیا کہ "یہ گروپ پھر بابا ڈریس شاپ پر پہنچا اور دکان کے سامنے نعرے لگانے لگے اور مذہبی جنون پھیلاتے ہوئے گالی گلوچ کی۔"یہ نوجوان دیپک ہے، جو کوٹ دوار کا ایک جم ٹرینر ہے۔ دیپک نے کوٹ دوار بابا تنازعہ میں بجرنگ دل کی مخالفت کی تھی۔ دیپک نے واضح طور پر کہا کہ لفظ "بابا" کسی ایک مذہب سے مخصوص نہیں ہے۔ بحث بڑھتی گئی اور آوازیں بلند ہوتی گئیں۔ اسی دوران بجرنگ دل کے اراکین نے دیپک سے اس کا نام پوچھا، جس پر اس کے جواب نے محفل لوٹ لی۔ اس نے کہا، "میرا نام محمد دیپک ہے"... اس طرح کا جواب سن کر ماحول اور بھی زیادہ گرم ہو گیا۔اگر دکاندار مسلمان ہے تو اس کا کیا قصور؟ ہنگامہ آرائی کے درمیان دیپک نے بھیڑ سے سوال کیا، "اگر دکاندار مسلمان ہے تو اس کا کیا قصور؟" انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں پیر بابا بھی ہوتے ہیں۔ "یہ دکان 30 سال سے چل رہی ہے۔ آج تک کسی نے اعتراض نہیں کیا۔" گرما گرم بحث و تکرار کے درمیان بھی دیپک بزرگ دکاندار کے ساتھ کھڑا رہا۔ اس نے بلا خوف و خطر دکان چلانے پر اصرار کیا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments