National

مدھیہ پردیش میں سرکاری ملازمتوں کے لیے دو بچوں کی شرط ختم، موہن یادو حکومت کا بڑا فیصلہ

مدھیہ پردیش میں سرکاری ملازمتوں کے لیے دو بچوں کی شرط ختم، موہن یادو حکومت کا بڑا فیصلہ

بھوپال: مدھیہ پردیش حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے لیے نافذ دو بچوں کی شرط ختم کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ موہن یادو نے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کو ہدایت دی ہے کہ مجوزہ سول سروس قواعد میں شامل اس شق کو فوری طور پر واپس لیا جائے جس کے تحت دو سے زیادہ زندہ بچوں کے حامل امیدوار سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار پاتے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکمے کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ سرکاری پورٹل پر موجود مسودہ فوری طور پر ہٹایا جائے اور نظرثانی شدہ قواعد جاری کیے جائیں۔ واضح رہے کہ سال 2001 میں اس وقت کی دگوجئے سنگھ حکومت نے ایک پالیسی متعارف کرائی تھی جس کے تحت 26 جنوری 2001 کے بعد دو سے زیادہ بچوں کے حامل افراد کو سرکاری ملازمتوں میں براہِ راست تقرری اور محکمانہ تقرریوں کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں مدھیہ پردیش سول سروس (کنڈکٹ) رولز 1965 میں بھی ترمیم کی گئی تھی، جس کے مطابق کسی سرکاری ملازم کے ہاں تیسرا بچہ پیدا ہونا محکمانہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا تھا۔ اس بنیاد پر متعلقہ ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گنجائش بھی موجود تھی۔ وزیر اعلیٰ موہن یادو نے اس قانون کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنظیمیں طویل عرصے سے اس قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہی تھیں کیونکہ اس کی وجہ سے کئی خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments