National

مہاراشٹر کے امراوتی میں بڑا سیاسی الٹ پھیر، اے آئی ایم آئی ایم کے سہارے کھلا ’کمل‘، میرا کامبلے پارٹی سے خارج

مہاراشٹر کے امراوتی میں بڑا سیاسی الٹ پھیر، اے آئی ایم آئی ایم کے سہارے کھلا ’کمل‘، میرا کامبلے پارٹی سے خارج

مہاراشٹر کے امراوتی شہر میں بلدیاتی سیاست نے ایک غیر متوقع رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں میئر کے انتخاب کے دوران ایک بڑا سیاسی الٹ پھیر دیکھنے میں آیا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی کارپوریٹر میرا کامبلے نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار شری چند تیجوانی کے حق میں ووٹ دے کر سب کو حیران کر دیا۔ اس غیر متوقع حمایت کے نتیجے میں بی جے پی کو میئر کا عہدہ حاصل ہو گیا، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے میرا کامبلے کو پارٹی سے خارج کر دیا۔ امراوتی میونسپل کارپوریشن کے میئر کے انتخاب میں سیاسی مساوات اس وقت بدل گئیں جب اے آئی ایم آئی ایم، جو عام طور پر بی جے پی کی سخت مخالف سمجھی جاتی ہے، کی ایک منتخب نمائندہ نے عین موقع پر پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹنگ کی۔ میرا کامبلے کے ووٹ نے بی جے پی امیدوار شری چند تیجوانی کو واضح برتری دلائی اور وہ امراوتی کے نئے میئر منتخب ہو گئے۔ اس پیش رفت کے فوراً بعد اے آئی ایم آئی ایم نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے میرا کامبلے کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پارٹی کی نظریاتی پالیسی اور تنظیمی نظم و ضبط کے خلاف تھا، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پارٹی کے مطابق، اس طرح کی نظم شکنی سے غلط سیاسی پیغام جاتا ہے۔ میئر کے ساتھ ساتھ نائب میئر کے عہدے کے لیے بھی انتخاب ہوا، جس میں یوا سوابھیمان پارٹی کے سچن بھینڈے نائب میئر منتخب ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی امراوتی میونسپل کارپوریشن میں مہایوتی کی حکومت قائم ہو گئی ہے۔ اس مہایوتی میں بی جے پی، شیو سینا (شندے گروپ)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (اجیت پوار گروپ) اور یوا سوابھیمان پارٹی شامل ہیں۔ طے شدہ اقتدار کی شراکت کے فارمولے کے تحت شری چند تیجوانی پہلے ڈیڑھ سال تک میئر کے عہدے پر فائز رہیں گے، جس کے بعد بی جے پی کے ہی آشییش اتکرے اگلے ڈیڑھ سال کے لیے میئر بنیں گے۔ نائب میئر کا عہدہ یوا سوابھیمان پارٹی کے حصے میں آیا ہے۔ ادھر انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ تقریباً 22 بی جے پی امیدواروں نے، جن میں سے بیشتر انتخاب ہار چکے ہیں، وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو خط لکھ کر نونیت رانا کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے سرکاری امیدواروں کے خلاف مہم چلائی۔ یہ تمام واقعات مہاراشٹر کی مقامی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments