National

مہاراشٹر حج کمیٹی میں غیر مسلم سی ای اور کی تقرری، عدالت میں چیلنج

مہاراشٹر حج کمیٹی میں غیر مسلم سی ای اور کی تقرری، عدالت میں چیلنج

ممبئی 21 جنوری : مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی میں غیر مسلم آئی اے ایس افسر منوج جادھو کی بطور چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) تقرری نے ریاستی سیاست، قانونی حلقوں اور مسلم سماج میں ایک ہمہ گیر اور حساس بحث چھیڑ دی ہے ۔ اس تقرری کے خلاف سماج وادی پارٹی کے عہدیدار اور سابق رکن اسمبلی ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے بامبے ہائی کورٹ میں باقاعدہ عرضداشت داخل کر دی ہے ، جس میں ریاستی حج کمیٹی، مائناریٹی ڈپارٹمنٹ، مقررہ افسر اور ریاستی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے ۔ عرضداشت میں حکومت کے فیصلے کو حج کمیٹی آف انڈیا کے ضابطوں، سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز اور حج جیسے خالص مذہبی فریضے کی روح سے متصادم قرار دیا گیا ہے ۔ یہ پٹیشن ایڈوکیٹ فیروز عثمان کے توسط سے داخل کی گئی ہے ۔ درخواست گزار کا م¶قف ہے کہ حج کمیٹیوں کا قیام اور ان کا انتظامی ڈھانچہ بنیادی طور پر مسلم کمیونٹی کے مذہبی تقاضوں، مناسکِ حج کی باریکیوں اور عازمین کے ایمانی و عملی مسائل سے جڑا ہوا ہے ۔ ان کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا کے قواعد، سابقہ نظائر اور سپریم کورٹ کی رہنمائی اس امر کی متقاضی ہے کہ ایسے حساس ادارے کی قیادت کسی ایسے افسر کے سپرد ہو جو مذہبی سیاق و سباق سے پوری طرح واقف ہو۔ ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے کہاکہ ریاستی حکومت کا فیصلہ اصولی اور قانونی دونوں اعتبار سے غلط ہے ۔ حج کمیٹی کی تاریخ میں آج تک کسی غیر مسلم افسر کو ایگزیکٹیو آفیسر مقرر نہیں کیا گیا۔ حج خالص مذہبی معاملہ ہے ؛ افسران کو انتظامات کے لیے سعودی عرب جانا پڑتا ہے ، عازمین سے براہِ راست رابطہ رکھنا ہوتا ہے اور مذہبی حساسیت کے ساتھ فوری فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ ایسے میں غیر مسلم افسر سے انصاف کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ریاستی حکومت کو مسلم افسر کی تقرری کی ہدایت دی جائے ، اور امید ظاہر کی کہ ملی تنظیمیں بھی اس معاملے میں علیحدہ عرضداشتیں داخل کریں گی۔ مہاراشٹر کی طرح اتر پردیش اسٹیٹ حج کمیٹی میں بھی غیر مسلم سی ای او کی تقرری پر مسلم حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے اس فیصلے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ممبئی میں اپنے اراکین کو قانونی تیاری کی ہدایت دی ہے ۔ دو دن قبل ممبئی امن کمیٹی کے دفتر میں منعقدہ میٹنگ میں اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلہ میں سنئیروکلاءابھیشیک منوسنگھوی ،ایڈوکیٹ یوسف مچھالا اور کپل سبل جیسے سینئر وکلاءکی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ علماءاور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے ، جس کی ادائیگی محض انتظامی مشق نہیں بلکہ عبادت کی تکمیل ہے ۔ ان کے مطابق حج کمیٹیوں کی نگرانی ایسے فرد کے سپرد ہونی چاہیے جو اسلامی احکام، مناسکِ حج اور عازمین کے مذہبی تقاضوں سے واقف ہو۔ بامبے ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے ایک ویڈیو پیغام میں اس تقرری پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل اور اسٹیٹ حج کمیٹی ایکٹ کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچہ بنیادی طور پر مسلم کمیونٹی سے جڑا ہے ۔ انہوں نے کانگریس کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا اور اعلان کیا کہ تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ یہ معاملہ اب محض ایک تقرری کا نہیں رہا بلکہ آئینی توازن، مذہبی خودمختاری اور ریاستی فیصلوں کی حساسیت کا امتحان بن چکا ہے ۔ بامبے ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت یہ پٹیشن نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک بھر کی حج کمیٹیوں کے انتظامی ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتی ہے ۔ مسلم حلقوں کی نگاہیں عدالت کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جس سے یہ طے ہوگا کہ مذہبی اداروں میں ریاستی مداخلت کی حد کہاں تک ہے اور مذہبی تقاضوں کا قانونی تحفظ کس حد تک یقینی بنایا جاتا ہے ۔

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments