راجابازار سے پارک سرکس تک مارچ میں شامل ہو سکتی ہیں ممتا بنرجی
دہلی کے بعد اب کولکاتا کی سڑکوں پر بھی مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاجی پروگرام کا اعلان ترنمول کانگریس نے کیا ہے۔ منگل کو دیوی پکش کی تیسری تاریخ کو دوپہر 2 بجے سے راجابازار سے پارک سرکس تک جلوس نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے جاری کردہ تشہیری پوسٹر میں اس پروگرام کو ”زبردست احتجاجی جلوس“ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، اس جلوس کی اجازت کے معاملے پر کولکاتا پولیس کا حتمی موقف کیا ہوگا، اس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ممتا بنرجی بھی اس جلوس میں شامل ہو سکتی ہیں۔
تشہیری پوسٹر میں جلوس نکالنے کی کئی وجوہات بتائی گئی ہیں۔ ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ”جمہوریت کی آواز دبانے“ کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، جنہیں پوسٹر میں ”ووٹ چور“ کہا گیا ہے، کے استعفے اور گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ دہلی میں ممتا بنرجی کو پولیس کے ذریعے حراست میں لیے جانے کے خلاف احتجاج اور نئی نسل سمیت اپوزیشن جماعتوں کے خلاف مبینہ ”جبر و استبداد“ کے معاملے کو بھی اٹھایا جائے گا۔
منگل کے احتجاجی پروگرام کے پیش نظر ترنمول کانگریس کے رہنماو¿ں اور کارکنوں نے پیر سے ہی کولکاتا میں تشہیری مہم شروع کر دی ہے۔ مختلف علاقوں میں کارکنوں تک جلوس کا پیغام پہنچانے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی شرکت کو یقینی بنانے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ ممتا بنرجی کی پارٹی کی طلبہ، نوجوان، خواتین اور مزدور تنظیموں کے کارکنوں سے بھی اس پروگرام میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
تاہم، جلوس کے وقت اور راستے کو لے کر انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ دیوی پکش کا آغاز ہو چکا ہے اور کولکاتا میں درگا پوجا کی افتتاحی تقریبات بھی شروع ہو گئی ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پوجا کے باعث لوگوں کی بھیڑ بڑھنے لگی ہے۔ وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کو بھی کئی درگا پوجا پنڈالوں کا افتتاح کرنا ہے۔
ایسے حالات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کولکاتا پولیس راجابازار سے پارک سرکس تک سیاسی جلوس نکالنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں۔ خاص طور پر دوپہر کے مصروف اوقات میں شہر کے اس اہم راستے پر جلوس نکلنے سے ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ راجابازار، سی آئی ٹی روڈ اور پارک سرکس کے آس پاس کے وسیع علاقے میں درگا پوجا سے قبل گاڑیوں کا دباو¿ بھی بڑھ رہا ہے۔ اس لیے اگر جلوس کی اجازت دی جاتی ہے تو پولیس کو ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے الگ انتظامات کرنے پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اگر اجازت نہیں ملتی تو ترنمول کانگریس کیا موقف اختیار کرتی ہے، اس پر بھی نظر رہے گی۔
اسی دوران، ممتا بنرجی پیر کو دہلی کے احتجاجی پروگرام میں شرکت کے بعد کولکاتا کے جلوس میں شامل ہو پائیں گی یا نہیں، اس بارے میں ترنمول کانگریس کی قیادت کے ایک طبقے میں تذبذب پایا جا رہا ہے۔
ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام کسی بھی طرح درگا پوجا کے خلاف نہیں ہے، بلکہ مرکزی حکومت کے خلاف سیاسی اور جمہوری احتجاج کے طور پر اس جلوس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پارٹی رہنماو¿ں کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک میں جمہوری ماحول اور اپوزیشن کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، اس پروگرام کا بنیادی مقصد مرکزی حکومت پر آمریت کے الزامات کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔
اسی لیے ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس دہلی کے احتجاج کے بعد کولکاتا میں ہونے والے اس جلوس کو سیاسی طور پر اہم قرار دے رہی ہیں۔ درگا پوجا کے ماحول میں کولکاتا کی سڑکوں پر مرکزی حکومت کے خلاف یہ احتجاج آخر کتنی بڑی شکل اختیار کرتا ہے اور کولکاتا پولیس جلوس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں، اس پر سیاسی حلقوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔
تاہم، ترنمول کانگریس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جلوس نکالنے کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ راجیہ سبھا کے سابق رکن اور ترنمول کانگریس کے رہنما شبھاشیش چکرورتی نے کہا، ”پولیس جلوس کی اجازت دے گی یا نہیں، اس بارے میں ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ہم اس معاملے پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ احتجاجی جلوس ضرور نکالا جائے گا۔ ہماری لیڈر اس جلوس میں موجود رہیں گی۔“
اس جلوس کے بارے میں شمالی کولکاتا ضلع بی جے پی کے صدر تموگھنا گھوش نے کہا، ”ترنمول کانگریس اب غیر متعلق ہو چکی ہے۔ وہ کہاں کیا کرتی ہے یا نہیں کرتی، اس میں کولکاتا یا ریاست کے لوگوں کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہم ایسی غیر متعلق سیاسی جماعت کے بارے میں سوچنا یا بات کرنا بھی نہیں چاہتے۔
راجابازار سے پارک سرکس تک مارچ میں شامل ہو سکتی ہیں ممتا بنرجی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments