گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر کولکاتا میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کا جلوس
دہلی میں جاری احتجاج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اتوار کو کولکاتا میں بھی جلوس نکالا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر اتوار کو بائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں سڑکوں پر اتریں۔ اس جلوس میں ایس ایف آئی، آئیسا، اے آئی ڈی ایس او سمیت مختلف بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے شرکت کی۔ جلوس کے دوران گیانیش کمار کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے حامیوں نے جمہوریت کے تحفظ کے مطالبے کے ساتھ پلے کارڈز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔
ہفتے کے روز دہلی میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے جنتر منتر تک مارچ کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس میں ایس ایف آئی، آئیسا سمیت مختلف بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے بھی شرکت کی تھی۔ ہفتے کے روز دہلی میں دن بھر مظاہرین کی پکڑ دھکڑ جاری رہی۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، تقریباً سات ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
اتوار کو بھی صبح سے دہلی کے کناٹ پلیس کے قریب جمع ہونے کی کوشش کی گئی۔ اس دن بھی پولیس نے مختلف مراحل میں مظاہرین کو حراست میں لیا۔ دوپہر میں آئیسا کی رہنما نیہا بورا کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شام کو ایس ایف آئی کی رہنما آئشی گھوش کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
دہلی میں جب دن بھر مظاہرین کے جمع ہونے اور ان کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری تھا، اسی دوران احتجاج کرنے والوں کی حمایت میں اتوار کو کولکاتا میں بھی بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے جلوس نکالا۔گیانیش کمار کے خلاف اتوار کو بھارت جوڑو ابھیان کی مغربی بنگال شاخ کی جانب سے کولکاتا میں ایک کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔ مولالی یووا کیندر کے وویکانند کانفرنس ہال میں منعقدہ اس کانفرنس میں گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے علاوہ ایس آئی آر (ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی) کو منسوخ کرنے اور ریاست میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔تنظیم کا کہنا ہے، ”مودی حکومت کو جمہوری طریقے سے شکست دینے کے لیے حقِ رائے دہی کو واپس حاصل کرنا ہی ہوگا۔“
گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر کولکاتا میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کا جلوس...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments