National

لوک سبھا میں بحث کے دوران گزٹ نوٹیفکیشن سے خواتین ریزرویشن پر نیا موڑ

لوک سبھا میں بحث کے دوران گزٹ نوٹیفکیشن سے خواتین ریزرویشن پر نیا موڑ

خواتین ریزرویشن بل اور حدبندی کے گرد گھومتی سیاسی کہانی میں ایک اور غیر متوقع موڑ اس وقت آیا جب لوک سبھا میں جاری بحث کے بیچ مرکزی حکومت نے اچانک ایک گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 2023 کے قانون کو 16 اپریل 2026 سے نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف پارلیمنٹ میں جاری بحث کو ایک نئی سمت دی بلکہ سیاسی حلقوں میں کئی سوالات اور قیاس آرائیاں بھی جنم دے دی ہیں۔ یہ قانون، جسے 2023 میں ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کے نام سے منظور کیا گیا تھا، پہلے ہی دو اہم شرائط یعنی مردم شماری اور اس کے بعد ہونے والی حدبندی سے مشروط تھا۔ اس کے باوجود، حکومت نے ایسے وقت میں اس کے نفاذ کا اعلان کیا جب اسی موضوع پر ترمیمی بل پر بحث جاری ہے۔ اس اچانک فیصلے کی کوئی واضح سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث اپوزیشن نے اسے ایک سیاسی چال قرار دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ خصوصی پارلیمانی اجلاس میں پیش کیے گئے ترمیمی بل منظور نہیں ہو پاتے، تو 2023 کا اصل قانون غیر مؤثر ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، حکومت نے اسی خدشے کو ختم کرنے کے لیے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا تاکہ اصل قانون کو برقرار رکھا جا سکے۔ کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے اس اقدام کو ’انتہائی عجیب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ترمیمات پر بحث جاری ہے تو نفاذ کا اعلان غیر معمولی ہے۔ جو افراد ان دفعات کی باریکیوں کو سمجھتے ہیں، ان کا اندازہ ہے کہ اگر خصوصی پارلیمانی اجلاس میں پیش کیے گئے ترمیم شدہ بل آج (جمعہ، 17 اپریل) منظور نہ ہو پاتے، تو 2023 کا اصل قانون منسوخ ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق اسی امکان کو روکنے کے لیے یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ ایک دوسرا مؤقف یہ بھی ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو اپوزیشن کو مات دینے کی حکمت عملی کے طور پر تیار کیا گیا، جس میں انہیں ایسے متبادل دیے گئے جنہیں قبول کرنا آسان نہیں تھا: یا تو 2011 کی مردم شماری اور لوک سبھا کی بڑھائی گئی نشستوں کی بنیاد پر خواتین کے لیے ریزرویشن کے نئے فارمولے کو قبول کریں، یا پھر 550 نشستوں (جبکہ ایوان کی حقیقی تعداد 540 ہے، جن میں تین نشستیں خالی ہیں) اور 2027 کی مردم شماری پر مبنی موجودہ فارمولے کو مان لیں۔ دوسرے متبادل کی صورت میں حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنی مرضی کا حدبندی کمیشن تشکیل دے اور آبادی کے تناسب سے انتخابی حلقوں کی سرحدوں کا ازسرِ نو تعین کرے۔ یہ بھی محسوس کیا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت ریاستوں کے لیے نشستوں کی تعداد بڑھا کر اپوزیشن کو راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ جمعہ کو ان تینوں بلوں پر ہونے والی ووٹنگ کے دوران اپوزیشن کے اتحاد میں دراڑ پڑ سکے۔ آئینی ترمیمی بلوں کو منظور کرانے کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجود اور ووٹ دینے والے اراکین میں دو تہائی کی حمایت ضروری ہے، اور یہ تعداد ایوان کی کل رکنیت کے نصف سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ اس وقت لوک سبھا میں 540 اراکین ہیں، جبکہ تین نشستیں خالی ہیں، اس لیے مطلوبہ تعداد 360 بنتی ہے۔ این ڈی اے کے پاس اس وقت 293 اراکین کی حمایت ہے، جو درکار تعداد سے 67 کم ہے۔ اگرچہ ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے والے اراکین کی وجہ سے یہ ہدف کچھ کم ہو سکتا ہے، لیکن اس فرق کو پورا کرنے کے لیے بڑی تعداد میں اراکین کا غیر حاضر رہنا ضروری ہوگا۔ اپوزیشن کے پاس 234 اراکین ہیں، اور حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ جمعہ کو کتنے اراکین ایوان میں موجود ہوتے ہیں، کتنے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیتے اور کتنے واقعی اپنا ووٹ ڈالتے ہیں۔ جمعرات کو بل پیش کیے جانے کے وقت ہونے والی ووٹنگ سے بھی یہ واضح ہو گیا کہ این ڈی اے کے پاس آئینی ترمیمی بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ حمایت موجود نہیں تھی۔ اس موقع پر 436 اراکین کی موجودگی میں 251 نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 185 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔ اعداد و شمار بھی اس مشکل کو واضح کرتے ہیں۔ حالیہ ووٹنگ میں، جب بل پیش کیا گیا، تو حکومت کو مکمل حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments