National

لوک پال نے مہوا موئترا کے خلاف استغاثہ کی منظوری پر نظرثانی کیلئے دہلی ہائی کورٹ سے مانگی دو ماہ کی مہلت

لوک پال نے مہوا موئترا کے خلاف استغاثہ کی منظوری پر نظرثانی کیلئے دہلی ہائی کورٹ سے مانگی دو ماہ کی مہلت

نئی دہلی: کیش فار کوئری الزامات سے جڑے معاملے میں لوک پال آف انڈیا نے پیر کے روز دہلی ہائی کورٹ سے دو ماہ کی اضافی مہلت طلب کی ہے، تاکہ ترنمول کانگریس کی رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا کے خلاف استغاثہ کی منظوری پر ازسرنو غور کیا جا سکے۔ یہ درخواست جسٹس وویک چودھری اور جسٹس رینو بھٹناگر پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے پیش کی گئی۔ لوک پال کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے مقرر کی گئی ایک ماہ کی مدت میں سماعت ممکن نہیں ہو سکی، کیونکہ اس دوران عدالت کی سرمائی تعطیلات جاری تھیں۔ لوک پال آف انڈیا نے دہلی ہائی کورٹ سے یہ درخواست کی ہے کہ: اسے مزید دو ماہ کا وقت دیا جائے تاکہ وہ یہ فیصلہ دوبارہ (ازسرنو) کر سکے کہ آیا مہوا موئترا کے خلاف استغاثہ کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔ استغاثہ کی منظوری کا مطلب ہوتا ہے کسی عوامی نمائندے یا سرکاری عہدے دار کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کی قانونی اجازت۔ بغیر اس منظوری کے تفتیشی ایجنسیاں عدالت میں مقدمہ شروع نہیں کر سکتیں۔ لوک پال کا مؤقف یہ ہے کہ پہلے جو مواد، شواہد یا قانونی نکات سامنے آئے تھےان کا مزید باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ کوئی فیصلہ جلد بازی میں نہ ہو اور بعد میں یہ نہ کہا جا سکے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ یعنی لوک پال کا کہنا ہے کہ ’’ہم ابھی یہ نہیں کہہ رہے کہ مہوا موئترا قصوروار ہیں یا بے قصور، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانونی تقاضوں کے مطابق استغاثہ کی اجازت دینے یا نہ دینے پر مکمل اور منصفانہ غور کیا جائے۔‘‘ یہ بات واضح ہے کہ لوک پال نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ نہ ہی اس نے مہوا موئترا کو مجرم قرار دیا ہے اور نہ ہی کلین چٹ دی ہے یہ محض ایک قانونی عمل ہے، جس میں شفافیت، آئینی طریقہ اور انصاف کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لوک پال کی جانب سے دلیل دی گئی کہ معاملے پر لوک پال و لوک آیکت ایکٹ کی دفعات کے مطابق دوبارہ غور کے لیے اضافی وقت درکار ہے، تاکہ ایک ٹھوس اور قانونی بنیادوں پر مبنی فیصلہ دیا جا سکے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہدایت دی کہ معاملہ اسی ڈویژن بنچ کے سامنے رکھا جائے، جس نے 19 دسمبر 2025 کو لوک پال کے اس سابقہ حکم کو منسوخ کیا تھا، جس کے تحت سی بی آئی کو مہوا موئترا کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ اب اس کیس کی اگلی سماعت 23 جنوری 2026 کو ہوگی۔ مہوا موئترا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگرچہ انہیں تحریری جواب جمع کرانے اور زبانی سماعت کا موقع دیا گیا، تاہم ان کے دلائل پر مناسب غور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوک پال نے دفعہ 20(8) کا غلط اطلاق کیا، جبکہ استغاثہ کی منظوری سے متعلق معاملہ دفعہ 20(7) کے تحت آتا ہے۔ اس سے قبل سی بی آئی نے، ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایس وی راجو کے ذریعے، عدالت میں مؤقف رکھا تھا کہ مہوا موئترا کو زبانی سماعت کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں تھا اور لوک پال نے قانون سے بڑھ کر انہیں مواقع فراہم کیے۔ شکایت کنندہ کے وکیل نے بھی لوک پال کے ابتدائی فیصلے کی حمایت کی تھی۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ’’کیش فار کوئری‘‘ معاملے میں مبینہ طور پر پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے کے بدلے رقم یا فائدہ حاصل کیا۔ یہ ایک سنگین الزام ہے، کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے تو یہ بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ کیس اکتوبر 2023 میں ایڈووکیٹ جے آننت کی جانب سے دائر کی گئی شکایت سے شروع ہوا تھا۔ شکایت کے بعد لوک پال نے معاملہ سی بی آئی کو سونپا، جس نے فروری 2024 میں ابتدائی رپورٹ اور جون 2024 میں تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔ بعد ازاں لوک پال نے 12 نومبر 2025 کو استغاثہ کی منظوری دی، جسے دہلی ہائی کورٹ نے منسوخ کر دیا تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments