Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد مجوزہ رائے گنج ایمس کے آس پاس زمین کی خرید و فروخت میں تیزی، مقامی باشندے حیران

Admin
By Admin
Oct 31, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد مجوزہ رائے گنج ایمس کے آس پاس زمین کی خرید و فروخت میں تیزی، مقامی باشندے حیران
وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد مجوزہ رائے گنج ایمس کے آس پاس زمین کی خرید و فروخت میں تیزی، مقامی باشندے حیران — October 31, 2026
وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد مجوزہ رائے گنج ایمس کے آس پاس زمین کی خرید و فروخت میں تیزی، مقامی باشندے حیران
شمالی دیناج پور ضلع کے رائے گنج بلاک کے دیپ نگر میں ایمس کے مجوزہ مقام کے آس پاس زمین خریدنے کے خواہش مند افراد اور زمین کے دلالوں کی بھیڑ لگنے لگی ہے۔ یہ سلسلہ جمعرات کو وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کی جانب سے وہاں اعلیٰ طبی ادارہ قائم کرنے کی تجویز کے اعلان کے بعد شروع ہوا۔
جمعرات کو رائے گنج کے دورے کے دوران شوبھندو نے اعلان کیا تھا کہ رائے گنج بلاک کے دیپ نگر میں ایمس اسپتال قائم کرنے کے لیے مرکز کو تجویز بھیجی جائے گی۔ شیتگرام پنچایت کے تحت آنے والا دیپ نگر، قومی شاہراہ 12 کے راستے سلی گوڑی کی جانب رائے گنج شہر سے محض 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایمس کے لیے مجوزہ مقام شاہراہ کے مشرقی جانب ہے۔
مقامی باشندوں نے بتایا کہ جمعرات کی دوپہر سے ہی علاقے میں زمین کے دلال اچانک سرگرم ہوگئے۔ مختلف مقامات سے آنے والی گاڑیاں رات گئے تک علاقے کے چکر لگاتی دکھائی دیں۔ کئی زمین مالکان کو آن لائن اور آف لائن زمین خریدنے کے لیے پرکشش پیشکشیں موصول ہوئیں۔ چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر علاقے میں فروخت کے لیے دستیاب زمین کے پلاٹوں کی معلومات طلب کرنے والی متعدد پوسٹیں بھی سامنے آئیں۔ ممکنہ خریداروں نے زمین خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
دیپ نگر کے رہائشی میر نجیم نے بتایا کہ مجوزہ منصوبے کے علاقے میں ان کے خاندان کی تقریباً 80 بیگھہ زمین ہے۔
انہوں نے کہا، ”ایمس کے اعلان سے ہم بے حد خوش ہیں۔ حکومت کو اس منصوبے کے لیے جتنی زمین درکار ہوگی، ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔ کل یعنی جمعرات کی دوپہر سے اب تک مجھے اپنی زمین خریدنے میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے کم از کم 30 فون آ چکے ہیں۔ اس علاقے میں زمین کی موجودہ قیمت تقریباً 7 سے 8 لاکھ روپے فی بیگھہ ہے۔ ابتدا میں مجھے اس سے تقریباً دوگنی قیمت کی پیشکش کی گئی، لیکن میں نے انکار کر دیا۔“
ایک اور مقامی باشندے ہری پد دیب شرما نے کہا کہ شوبھندو کے اعلان کے بعد تاجروں نے تیزی سے زمین کے سودے طے کرنے شروع کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”میرے کزن کی تین بیگھہ زمین ہے، جسے ایک تاجر نے تین ماہ پہلے پیشگی رقم ادا کرکے بک کرایا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ باقی رقم ادا کرکے اگلے سال زمین کی رجسٹری مکمل کی جائے گی۔ لیکن جمعرات کے اعلان کے بعد تاجر کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا۔ وہ جمعہ کی صبح آیا، باقی رقم ادا کی اور میرے کزن کو زمین کی رجسٹری مکمل کرانے کے لیے کرناجورا کے ضلعی رجسٹریشن دفتر لے گیا۔“
ایک بزرگ مقامی باشندے گجین برمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد زمین کے دلال خاص طور پر جارحانہ انداز میں سرگرم ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”زمین کے دلال پلاٹ حاصل کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہے ہیں اور فون پر مختلف قسم کی پیشکشیں کر رہے ہیں۔ ہم نے مقامی باشندوں کو ان کے جال میں نہ پھنسنے کی تنبیہ کی ہے اور مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی زمین فروخت کرنے پر رضامند نہ ہوں۔“
ایک اور مقامی باشندے اجے داس نے بتایا کہ جمعرات کی رات کئی نامعلوم گاڑیاں علاقے میں پہنچی تھیں۔
انہوں نے کہا، ”ہم رات گئے تک پانی شالا موڑ کے قریب ایک چائے کی دکان پر وقت گزارتے ہیں۔ گزشتہ رات کم از کم 12 سے 14 گاڑیاں وہاں پہنچیں۔ کچھ لوگ گاڑیوں سے اترے اور قومی شاہراہ کے کنارے سے مجوزہ مقام کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ہم سے علاقے کے زمین مالکان کے بارے میں بھی پوچھا۔ ان سب کی دلچسپی زمین خریدنے میں دکھائی دے رہی تھی۔“
دیپ نگر کے ایک اور باشندے نے کہا، ”فی الحال زیادہ تر مقامی باشندوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کچھ وقت تک باہر کے لوگوں کو اپنی زمین فروخت نہیں کریں گے۔ لیکن وزیر اعلیٰ کے اعلان کے فوراً بعد جس تیزی سے زمین کے دلال ہم تک پہنچے، اس نے ہمیں حیران کر دیا ہے۔“
جمعہ کی صبح سے ہی مجوزہ مقام تقریباً سیاحتی مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اس مقام کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ قومی شاہراہ پر جمع ہوگئے۔ بی جے پی کی ہیمنت آباد-3 منڈل کمیٹی نے بھی جمعہ کی دوپہر دیپ نگر کے علاقے میں ریلی نکالی اور مجوزہ منصوبے کے لیے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
رائے گنج کے بی جے پی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت کوشک چودھری نے کہا کہ انہوں نے علاقے میں 197 ایکڑ زمین کی نشاندہی کی ہے اور اس سے متعلق دستاویزات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے 197 ایکڑ زمین کی نشاندہی کرکے اس سے متعلق دستاویزات ضلعی انتظامیہ کو سونپ دی ہیں۔ ایمس منصوبے کے لیے زمین دستیاب کرانے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔“
شمالی دیناج پور کے ضلع مجسٹریٹ اویجیت سیوالے نے کہا کہ دیپ نگر میں مجوزہ ایمس کے لیے تقریباً 180 ایکڑ زمین درکار ہوگی۔
تاہم، انتظامیہ ابھی تک یہ طے نہیں کر پائی ہے کہ نشاندہی کی گئی زمین میں سے کتنی سرکاری ملکیت ہے اور کتنی نجی۔ سیوالے نے کہا، ”انتظامیہ اس سلسلے میں جلد ہی سروے کرے گی۔“
ضلع میں ایمس منصوبے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ 2008 میں مرکز کی یو پی اے حکومت کے دور میں رائے گنج بلاک کے پانی شالا میں 960 بستروں والے ایمس اسپتال کی منظوری دی گئی تھی۔ مرکز نے اس منصوبے کے لیے 823 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔ تاہم، زمین کے حصول سے متعلق مسائل کے باعث یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ بالآخر اس منصوبے کو نادیہ ضلع کے کلیانی منتقل کر دیا گیا۔

وزیر اعلیٰ کے اعلان کے بعد مجوزہ رائے گنج ایمس کے آس پاس زمین کی خرید و فروخت میں تیزی، مقامی باشندے حیران...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn