Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

سرکاری اسپتالوں میں ’کارپوریٹ‘ طرز کی سہولیات کیوں ممکن نہیں؟ وزیر صحت کا میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں سے سوال

Admin
By Admin
Oct 31, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

سرکاری اسپتالوں میں ’کارپوریٹ‘ طرز کی سہولیات کیوں ممکن نہیں؟ وزیر صحت کا میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں سے سوال
سرکاری اسپتالوں میں ’کارپوریٹ‘ طرز کی سہولیات کیوں ممکن نہیں؟ وزیر صحت کا میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں سے سوال — October 31, 2026
سرکاری اسپتالوں میں ’کارپوریٹ‘ طرز کی سہولیات کیوں ممکن نہیں؟ وزیر صحت کا میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں سے سوال
سرکاری اسپتالوں کو صاف ستھرا اور چمکتا دمکتا بنانے کے مقصد سے جمعہ کو ریاست کے وزیر صحت شاردوت مکھوپادھیائے نے شہر کے پانچ میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں اور ایم ایس وی پی کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ میٹنگ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ سرکاری اسپتال نجی اسپتالوں کی طرح صاف ستھرے کیوں نہیں ہو سکتے؟ وزیر صحت نے سرکاری اسپتالوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں تبدیلی لانے کے لیے ایک ماہ کے اندر رپورٹ طلب کی ہے کہ کس میڈیکل کالج میں کس قسم کی مرمت اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔
چورباگان واقعے میں زخمی افراد، جو کولکاتا میڈیکل کالج اور ایس ایس کے ایم میں زیرِ علاج تھے، انہیں ایک نجی اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ وزیراعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے کیا تھا۔ اس فیصلے کے جواز پر جونیئر ڈاکٹروں کی تنظیم ڈبلیو بی زیڈ ڈی ایف کے ساتھ ساتھ سینئر ڈاکٹروں کی تنظیموں کے مشترکہ فورم (جے ڈی ایف) نے بھی سوال اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری طبی ڈھانچے کی اعلیٰ ترین سطح پر میڈیکل کالج موجود ہیں۔ ایسے میں میڈیکل کالج سے مریضوں کو کسی کارپوریٹ نجی اسپتال منتقل کرنے کا مطلب تو یہی ہے کہ محکمہ? صحت خود میڈیکل کالجوں کے بنیادی ڈھانچے پر شکوک و شبہات رکھتا ہے!
جے ڈی ایف اور ڈبلیو بی زیڈ ڈی ایف کے مشترکہ فورم کی اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پیر کو میلان میلے میں کہا تھا، ”منی پال اور اپولو جو سہولیات فراہم کر سکتے ہیں، کیا پی جی کے علاوہ کوئی اور اسپتال فراہم کر سکتا ہے؟“ اس کے بعد وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ کولکاتا میڈیکل کالج سمیت سرکاری میڈیکل کالج اسپتالوں کو بھی بہترین بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ”میں یہ کام چھ ماہ میں نہیں کر سکتا۔ میرے پاس علائ الدین کا کوئی جادوئی چراغ تو نہیں ہے۔ مجھے وقت دینا ہوگا۔“
محکمہ صحت بھون کے ذرائع کے مطابق، اسی بیان کے تناظر میں جمعہ کی میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ میں موجود ایک افسر نے بتایا کہ صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کے معیار کو جانچنے کی ذمہ داری این اے بی ایچ (نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ہاسپٹلز اینڈ ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز) کی ہے۔ این اے بی ایچ کے طے شدہ معیار کے مطابق سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے پرنسپلوں اور ایم ایس وی پی کو ہدایات دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیر صحت نے پرنسپلوں سے پوچھا کہ ان کے میڈیکل کالجوں میں کس قسم کے مسائل موجود ہیں۔
کولکاتا میڈیکل کالج کی سرجری بلڈنگ اور ایم سی ایچ بلڈنگ میں واقع شعب? طب کی مرمت اور تزئین و آرائش کی ضرورت کے بارے میں شاردوت کو آگاہ کیا گیا۔ نیشنل میڈیکل کالج کی پرنسپل سسمتا بھٹاچاریہ نے بتایا کہ وہاں کوئی مردہ خانہ موجود نہیں ہے۔ نیورو میڈیسن اور نیورو سرجری کے نئے شعبے قائم کرنے کے ساتھ ساتھ شعب? امراضِ نسواں کے پیچھے ایک نئی عمارت تعمیر کرنے کے منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی۔ مجوزہ عمارت میں ایمرجنسی اور کیڑولٹی شعبوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ وزیر کو بتایا گیا کہ نیشنل میڈیکل کالج میں کینسر کے علاج کے لیے آو¿ٹ ڈور شعبہ تو موجود ہے، لیکن داخل مریضوں کے علاج کے لیے کوئی مناسب بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔
این آر ایس میں انتظامی عمارت کے سامنے ایک نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ اس عمارت میں ایمرجنسی، میڈیسن، سرجری، آرتھوپیڈک، ریڈیولوجی شعبوں کے ساتھ بلڈ بینک بھی منتقل کیے جانے ہیں۔ دیگر شعبوں کو تو منتقل کر دیا گیا ہے، لیکن ایمرجنسی شعبہ ابھی تک وہاں منتقل نہیں ہو سکا ہے۔ جمعہ کی میٹنگ میں اس معاملے پر بھی تبادلہ? خیال کیا گیا۔
محکمہ صحت بھون کی میٹنگ میں موجود ایک افسر نے بتایا کہ وزیر صحت نے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر ’نیک نیتی‘ اور ارادہ ہو تو سرکاری اسپتال بھی نجی اسپتالوں کی طرح خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
کولکاتا میڈیکل کالج کے ذرائع کے مطابق، ابتدائی طور پر اسپتال کی کسی ایک عمارت کا انتخاب کرکے اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں تعمیراتِ عامہ کے محکمے سے بات چیت کرکے اقدامات کرنے کا منصوبہ ہے۔
جمعہ کی میٹنگ کے بعد وزیر صحت نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”ہم ایک ایسا طبی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جو مو¿ثر، آسانی سے قابلِ رسائی ہو اور ہر شہری کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، واضح منصوبہ بندی اور مو¿ثر انتظامی نظام کے ذریعے ہم مغربی بنگال کی صحت خدمات کو پورے ملک میں بہترین بنانے کے لیے پ±رعزم ہیں۔“

سرکاری اسپتالوں میں ’کارپوریٹ‘ طرز کی سہولیات کیوں ممکن نہیں؟ وزیر صحت کا میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں سے سوال...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn