National

لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کیمپس سے تمام مزاریں ہٹانے کے لیے نوٹس چسپاں، 15 دن کی مہلت

لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کیمپس سے تمام مزاریں ہٹانے کے لیے نوٹس چسپاں، 15 دن کی مہلت

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کیمپس میں واقع مزار کو ہٹانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ چوک علاقے میں کوئین میری اسپتال کے قریب واقع اس مزار سمیت کیمپس میں موجود دیگر مزاروں کے بارے میں کے جی ایم یو انتظامیہ نے اسے ’’غیر قانونی قبضہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ نوٹس میں متعلقہ افراد کو 15 دن کے اندر خود مزار ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر انتظامیہ کارروائی کرے گی اور اس پر آنے والا خرچ بھی ذمہ داران سے وصول کیا جائے گا۔ انتظامیہ کی جانب سے چسپاں کیے گئے نوٹس میں صاف طور پر درج ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر مزار نہیں ہٹائی گئی تو کے جی ایم یو اپنے اختیارات کے تحت اسے منہدم کر دے گا۔ اس اقدام کے بعد مزار کی دیکھ بھال کرنے والے مسلم خاندان میں بے چینی پھیل گئی ہے، جو اس مزار کو 600 سال پرانا تاریخی ورثہ قرار دے رہا ہے۔ مزار کی دیکھ ریکھ کرنے والی خاتون قیصر جہاں نے بتایا کہ یہ مزار شیخ فریدالحق شاہ کی ہے، جو صدیوں پہلے یہاں مدفون ہوئے تھے۔ ان کے مطابق کئی نسلوں سے ان کا خاندان اس مزار کی خدمت انجام دیتا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو برادری کے لوگ بھی عقیدت کے ساتھ آتے ہیں۔ قیصر جہاں کا کہنا تھا کہ اب نوٹس لگا دیا گیا ہے، ایسے میں وہ بے بس ہیں اور جو بھی فیصلہ ہوگا وہ حکومت اور انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔ مزار کے مجاور محمد شکیل نے بھی انتظامیہ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے آباؤ اجداد طویل عرصے سے اس مزار کی خدمت کرتے آ رہے ہیں۔ ہر سال یہاں عرس منعقد ہوتا ہے، جس کی اجازت سرکاری طور پر دی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس کے بعد وہ کے جی ایم یو انتظامیہ سے بات چیت کریں گے اور اپنا موقف رکھیں گے۔ ایک اور خادم محمد شیکر نے دعویٰ کیا کہ کے جی ایم یو کی سابق وائس چانسلر ڈاکٹر چندرا بھی اس مزار پر چادر چڑھانے آتی ہیں، جو اس کے سماجی اور مذہبی مقام کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب کے جی ایم یو انتظامیہ نے مزار کے قدیم ہونے کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔ نوٹس جاری کرنے والے نوڈل افسر پروفیسر کے کے سنگھ نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل موجودہ وائس چانسلر نے کیمپس میں غیر قانونی قبضوں اور مزاروں کے معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی۔ ان کے مطابق ریکارڈ اور جانچ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیر بحث مزار تقریباً 40 سال پرانی ہے، نہ کہ 600 سال قدیم۔ پروفیسر کے کے سنگھ نے مزید بتایا کہ جگت نارائن روڈ پر واقع ایک مزار، جو تقریباً 70 ہزار اسکوائر فٹ رقبے پر پھیلی ہوئی تھی، پہلے ہی خالی کرائی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ پانچ دیگر مزاریں اب بھی موجود ہیں، جنہیں غیر قانونی قبضہ قرار دے کر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سپریم کورٹ کی جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق کی جا رہی ہے۔ کے جی ایم یو انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر 15 دن کے اندر جواب نہیں دیا گیا یا جگہ خالی نہیں کی گئی تو قانون کے مطابق زبردستی کارروائی کی جائے گی۔ اس فیصلے نے لکھنؤ میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں ایک طرف انتظامیہ زمین کے قانونی استعمال پر زور دے رہی ہے، وہیں دوسری جانب مزار کے خدام اسے تاریخی، مذہبی اور سماجی ورثہ قرار دے کر تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments