National

لکھنؤ آتشزدگی معاملے میں عمارت کے مالک سمیت تمام چار ملزمان عدالتی تحویل میں

لکھنؤ آتشزدگی معاملے میں عمارت کے مالک سمیت تمام چار ملزمان عدالتی تحویل میں

لکھنؤ: اتر پردیش کے لکھنؤ کے المناک آتشزدگی واقعے، جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے چاروں ملزمان کو عدالت نے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ حکام کے مطابق اترپردیش کے لکھنؤ میں قائم اے سی جے ایم-2 عدالت نے چاروں ملزمان کو جوڈیشل کسٹڈی میں بھیجنے کا حکم دیا۔ گرفتار ملزمان میں سے تین کو جیل بھیج دیا گیا، جبکہ کمپلیکس کے مالک وریندر شکلا کو دل کی تکلیف کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس مقدمے میں عمارت کے مالک وریندر پرساد شکلا، گیمنگ زون انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر و آپریٹر تشنک کرشن جیسوال، آئی ٹی نیٹ ورکنگ پروفیشنل سریش کمار ساہو اور رام کرشن اپادھیائے کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ ان تمام افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا ( کی متعلقہ دفعات 105، 110، 125 اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع تین منزلہ عمارت میں پیش آیا تھا، جہاں ایک گیمنگ اور اینی میشن اسٹوڈیو قائم تھا۔ آتشزدگی کے نتیجے میں 15 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں طلبہ، تربیت حاصل کرنے والے نوجوان اور اسٹوڈیو کے عملے کے ارکان شامل تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور اس میں ملوث دیگر افراد کی شناخت اور گرفتاری کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ متوفیوں اور زخمیوں کے اہل خانہ کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور انہیں تمام ضروری سرکاری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کے ارکان امرت ابھیجات، ایڈیشنل چیف سکریٹری (سیاحت و ثقافت) اور پروین کمار، اے ڈی جی لکھنؤ زون نے صبح جائے وقوع کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک پوری عمارت کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور مختلف زاویوں سے تصاویر لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ امرت ابھیجات نے بتایا کہ آگ سے متعلق تمام متعلقہ افراد اور محکموں سے پوچھ گچھ کی جائے گی، جبکہ تحقیقات کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد حتمی رپورٹ تیار کرکے حکومت کو پیش کی جائے گی۔

Source: Social Media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments