ترواننت پورم: کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 میں کانگریس کی زبردست کامیابی کے بعد ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ پارٹی قیادت نے اس سلسلے میں اپنے دو سینئر لیڈروں اجے ماکن اور مکل واسنک کو مرکزی آبزرور مقرر کیا ہے، جو نو منتخب اراکین اسمبلی سے مشاورت کر کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے رائے لیں گے۔ اس پیش رفت کو کانگریس کی جانب سے منظم اور جمہوری طریقہ کار کے تحت حکومت سازی کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کانگریس لیجسلیٹو پارٹی کی میٹنگ جلد طلب کی جائے گی، جس کے بعد اجے ماکن اور مکل واسنک ترواننت پورم پہنچ کر اراکین اسمبلی سے فرداً فرداً ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ زیادہ تر اراکین کس لیڈر کو اپنا لیڈر منتخب کرنا چاہتے ہیں۔ کانگریس کی روایت رہی ہے کہ لیجسلیٹو پارٹی ایک قرارداد منظور کر کے قیادت کے انتخاب کا اختیار اعلیٰ قیادت کو سونپ دیتی ہے، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پارٹی کا ایک طے شدہ طریقہ کار ہے اور جلد ہی اس پر عمل کرتے ہوئے فیصلہ سامنے آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیرلم کے عوام نے کانگریس اور یو ڈی ایف اتحاد پر بھرپور اعتماد ظاہر کیا ہے، جو پارٹی کی پالیسیوں اور قیادت پر عوامی یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کی قیادت پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ پارٹی لیڈروں کے مطابق انتخابی مہم کے دوران کانگریس نے عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا نتیجہ اسے واضح اکثریت کی صورت میں ملا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کیرلم اسمبلی کی 140 نشستوں میں سے کانگریس کی قیادت والے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) نے 102 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی ہے۔ اس کے مقابلے میں مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت والے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کو صرف 35 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس نتیجے نے ریاست کی سیاست میں بڑا بدلاؤ پیدا کر دیا ہے اور کانگریس کو طویل عرصے بعد اقتدار میں واپسی کا موقع فراہم کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی یہ جیت نہ صرف تنظیمی مضبوطی بلکہ بہتر انتخابی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ پارٹی نے نوجوانوں، خواتین اور متوسط طبقے کو متوجہ کرنے کے لیے مختلف وعدے کیے، جنہیں عوام نے مثبت انداز میں قبول کیا۔ دریں اثنا پارٹی کے اندر وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے ممکنہ ناموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ مرکزی قیادت کی مشاورت سے ہی کیا جائے گا۔ اجے ماکن اور مکُل واسنک کی رپورٹ اس حوالے سے اہم کردار ادا کرے گی۔ کانگریس کے کارکنان اور حامی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ پارٹی قیادت نے اس موقع پر اتحاد اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے پیغامات نے کارکنان کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں اور ریاست میں ایک نئی سیاسی توانائی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کانگریس اسی رفتار سے کام جاری رکھتی ہے تو کیرلم میں اس کی حکومت ایک مستحکم اور مؤثر نظام قائم کر سکتی ہے، جس سے ریاست کی ترقی کو نئی سمت ملے گی۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات