کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا رکن کے سی وینوگوپال نے کیرالہ میں کورو ہیلتھ کمپنی کے سیکڑوں ملازمین کی اجتماعی برطرفی کو ملک کے محنت کش طبقے کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ نئے لیبر کوڈز مزدوروں اور ملازمین کے حقوق کو کمزور کرنے والے قوانین ہیں، جن کے نتیجے میں لاکھوں کارکن غیر یقینی روزگار اور اچانک برطرفیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کے سی وینوگوپال نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کورو ہیلتھ میں تقریباً 800 سے 900 ملازمین کو ایک ہی صبح مکمل اور حتمی برطرفی کے خطوط تھما دیے گئے اور انہیں ناکافی معاوضے کے ساتھ ملازمت سے نکال دیا گیا۔ ان کے مطابق اس طرح کی کارروائی نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ملازمین کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی تعلقات ضابطہ میں ’ورکر‘ کی تعریف ایسے شخص تک محدود کر دی گئی ہے جس کی ماہانہ آمدنی 18 ہزار روپے سے کم ہو۔ ان کے مطابق اس تعریف کے باعث اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے بیشتر ملازمین قانونی تحفظ سے محروم ہو جاتے ہیں، جن میں کورو ہیلتھ کے برطرف کیے گئے ملازمین بھی شامل ہیں۔ کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ نئے لیبر کوڈز میں مقررہ مدت کے معاہدے کا تصور بھی قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جس سے مستقل ملازمین کو عارضی معاہدوں میں تبدیل کرنے کا راستہ ہموار ہوگا۔ ان کے مطابق اس نظام کے تحت ملازمین ہر وقت ملازمت سے نکالے جانے کے خدشے میں رہیں گے، جس سے روزگار کا تحفظ اور ملازمین کے حقوق شدید متاثر ہوں گے۔ کے سی وینوگوپال نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے یہ لیبر کوڈز بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے ہیں، جبکہ ملک کی تعمیر میں اپنی محنت اور پسینہ بہانے والے مزدوروں اور ملازمین کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ کسی بھی جمہوری نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ایسے قوانین سے سماجی و معاشی عدم تحفظ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان لیبر کوڈز کو دوبارہ پارلیمانی جانچ کے لیے بھیجا جائے تاکہ ان پر تفصیلی غور کیا جا سکے اور مزدوروں کے مفادات کے مطابق ضروری تبدیلیاں کی جائیں۔ ان کے مطابق قانون سازی کا مقصد صرف کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ کارکنوں کے حقوق، روزگار کے تحفظ اور صنعتی توازن کو یقینی بنانا بھی ہونا چاہیے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات