جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ واپس دینے کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے وقت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ یہ وعدہ پارلیمنٹ میں بھی دہرایا گیا اور سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے اپنے فیصلے میں اس کا ذکر کیا، لیکن کئی برس گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔طویل انتظار کے بعد اب وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اس مسئلے کو دہلی تک لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو سری نگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’اگر دہلی ہماری آواز نہیں سن رہی تو کیا ہمیں وائٹ ہاؤس جا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنی پڑے گی؟‘‘ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ مناسب وقت اور حالات کے مطابق بحال کیا جائے گا۔ تاہم اس ’مناسب وقت‘ سے متعلق سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ مرکز کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر کی حساس جغرافیائی صورتحال اور دہشت گردی کے مسلسل خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مرکزی حکومت جموں و کشمیر کی پولیس اور سکیورٹی نظام پر براہِ راست کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے، اسی لیے اسے فی الحال مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنائے رکھنا زیادہ مناسب سمجھا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریاستی درجہ بحال ہونے کی صورت میں پولیس اور انتظامی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل ایک بڑا چیلنج ہوگی۔ ریاستی درجے کے معاملے پر دہلی اور سری نگر کے درمیان اختلافات مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی جانب سے مسلسل مطالبے کے باوجود زمین، روزگار اور سیاسی اختیارات جیسے اہم معاملات پر مرکز اور مقامی قیادت کے درمیان اتفاق رائے قائم نہیں ہو سکا۔ 2023 میں سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود مرکزی حکومت نے اب تک کوئی واضح ٹائم لائن بھی پیش نہیں کی ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے مرکز پر جموں و کشمیر کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ ان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل کانفرنس 20 جولائی کو دہلی میں جنتر منتر پر احتجاج کرکے مکمل ریاستی درجے کا مطالبہ دہرائے گی۔اس سے قبل جموں کے مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے وزیراعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم کی یقین دہانیوں میں وزن ہونا چاہیے۔ اس موقع پر شرکاء نے ’ہماری ریاست، ہماری شان‘ اور ’ہماری ریاست، ہمارا حق‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات