National

کیا دہلی میں بچوں اور خواتین کی گمشدگیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا؟ دہلی پولیس کی وضاحت

کیا دہلی میں بچوں اور خواتین کی گمشدگیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا؟ دہلی پولیس کی وضاحت

دہلی میں بچوں اور خواتین کی گمشدگیوں میں غیر معمولی اضافے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر دہلی پولیس نے وضاحت جاری کرتے ہوئے ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے اعداد و شمار کو غلط تناظر میں پیش کر کے عوام میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور چند ذرائع ابلاغ میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ قومی راجدھانی میں خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کے لاپتا ہونے کے معاملات میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ ان اطلاعات کے بعد شہریوں میں تشویش کی فضا دیکھی گئی۔ تاہم دہلی پولیس نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لینے پر گزشتہ تقریباً دس برسوں کے دوران ایسے معاملات میں کوئی غیر معمولی رجحان سامنے نہیں آیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پولیس نے کہا کہ لڑکیوں کے اچانک غائب ہونے سے متعلق جو تاثر قائم کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق کچھ عناصر مبالغہ آمیز انداز میں معلومات کو پیش کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ اس کے پیچھے مالی مفاد کارفرما ہو۔ بیان میں کہا گیا کہ پیسے کے لالچ میں خوف پھیلانا برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سے قبل بھی دہلی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور کسی بھی معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہر لاپتا یا مبینہ طور پر اغوا کیے گئے فرد کی تلاش کے لیے چوبیس گھنٹے کارروائی جاری رہتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بچوں اور خواتین کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور صورت حال معمول کے مطابق ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، اس لیے شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور سرکاری ذرائع سے جاری کردہ مستند اعداد و شمار پر اعتماد کریں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments