National

’کیا امریکہ طے کرے گا کہ ہم تیل اور گیس کس سے خریدیں گے؟‘ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں پوچھا سوال

’کیا امریکہ طے کرے گا کہ ہم تیل اور گیس کس سے خریدیں گے؟‘ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں پوچھا سوال

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران کے خلاف شروع کی جنگ سے پیدا حالات اور اس کے ممکنہ انتہائی سنگین نتائج پر اپنی بے باک رائے ایوانِ زیریں میں رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں اس جنگ کا وسیع اثر دکھائی دینے لگا ہے، گیس کی قلت سے لوگ پریشان ہیں، ہوٹل و ریستوران بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کہا کہ ’’کسی بھی ملک کی بنیاد اس کی توانائی سیکورٹی ہوتی ہے۔ کیا امریکہ یہ طے کرے گا کہ ہم تیل اور گیس کس سے خریدیں گے؟‘‘ ہندوستان میں پیدا موجودہ حالات کے لیے راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی نے امریکہ کے سامنے ’سرینڈر‘ کر دیا ہے، اس لیے امریکہ دباؤ ڈال کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حزب اختلاف کے قائد نے سوال کیا کہ ’’کیا امریکہ طے کرے گا کہ ہم روس سے تیل خریدیں گے یا نہیں۔ ہمارے تعلقات کس ملک سے کیسے ہوں گے، کیا یہ وہ (ٹرمپ) طے کریں گے۔ کیا ہم امریکہ کے کہنے پر تیل خریدیں گے؟‘‘ راہل گاندھی نے ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز بند کیے جانے کا ذکر بھی اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز بند ہے۔ دنیا کا 20 فیصد تیل وہاں سے آتا ہے، گیس کی قلت ہے، اور یہ صرف ابتدا ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’امریکہ کو فیصلہ لینے کی اجازت کس نے دی؟ ہم روس سے تیل کیوں نہیں لے سکتے؟ یہ کمپرومائز ہے۔‘‘ انھوں نے مرکزی وزیر برائے پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں پٹرولیم وزیر بیٹھے ہیں۔ انھوں نے خود بولا ہے کہ وہ ایپسٹین کے دوست ہیں۔‘‘ جیسے ہی راہل نے ایپسٹن کا ذکر کیا، ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بھی کہا کہ جس موضوع پر نوٹس دیا ہے، اسی پر بولیے۔ جواب میں راہل گاندھی نے وضاحت کی کہ وہ موجودہ حالات پر ہی بات رکھ رہے ہیں۔ بعد ازاں ہردیپ سنگھ پوری نے بھی لوک سبھا میں اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان 40 ممالک سے خام تیل خرید رہا ہے۔ آبنائے ہرمز سے 20 فیصد آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ ہندوستان کے خام تیل کی پوزیشن محفوظ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ڈیزل و پٹرول کی کوئی دقت نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس موافق ڈیزل و پٹرول ہے۔ قدرتی گیس کے لیے ترجیحات بھی طے کی گئی ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments