National

کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف تبصرہ، سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر سے متعلق دیا یہ بڑا حکم

کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف تبصرہ، سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر سے متعلق دیا یہ بڑا حکم

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج مدھیہ پردیش حکومت کوحکم دیا کہ وہ کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے والے وزیرکنوروجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینے پردوہفتے کے اندرفیصلہ لیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس دیپانکردتہ اورجسٹس جائے مال باغچی کی بینچ نے کہا کہ عدلیہ کے ذریعہ تشکیل خصوصی جانچ ٹیم نے اپنی جانچ پوری کرلی ہے اورآخری رپورٹ داخل کردی ہے۔ اب وہ ریاستی حکومت کی منظوری کا انتظارکررہا ہے، جوتعزیرات ہند کی دفعہ 196 (فرقہ وارانہ منافرت اوربد نیتی کوفروغ دینا) کے تحت کسی جرم کا نوٹس لینے کے لیے ضروری ہے۔ وکیل کپل سبل نے سوال کیا کہ یہ ایسی ریاست میں کیوں کیا جا رہا ہے، جہاں انتخابات ہونے والے ہیں۔ مئی 2025 میں آپریشن سندورکے بعد کرنل صوفیہ قریشی سرخیوں میں آئی تھیں۔ 11 مئی 2025 کواندورکے پاس ایک عوامی جلسے میں وجے شاہ نے متنازعہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا، ”دہشت گردوں نے ہماری بہنوں کا سندورمٹایا۔ مودی جی نے ان کی بہن کوبھیج کرانہیں سبق سکھایا۔ انہوں نے ہمارے ہندووں کوبے عزت کیا۔ مودی جی نے ان کی بہن کوان کے گھرمیں گھس کربدلہ لیا۔“ وزیروجے شاہ کے اس تبصرہ پرتنازعہ پیدا ہوگیا تھا اوران کے اس تبصرہ پرپورے ملک میں مذمت کی گئی، جس میں انہوں نے کرنل صوفیہ قریشی کواشاروں اشاروں میں دہشت گردوں کی بہن کہا۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد وزیروجے شاہ نے معافی مانگی تھی۔ سپریم کورٹ میں معاملہ پہنچا، جہاں عدالت نے وجے شاہ کی آن لائن معافی کونامناسب اورمگرمچھ کے آنسوجیسا بتایا۔ عدالت نے اسے قومی شرمندگی قراردیا اورایس آئی ٹی جانچ کے احکامات دیئے۔ آج سپریم کورٹ نے 19 جنوری 2026 کو سماعت میں مدھیہ پردیش حکومت سے مقدمہ چلانے کی اجازت پر دو ہفتے میں فیصلہ کرنے کوکہا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ مدھیہ پردیش حکومت کیا قدم اٹھاتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments