نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے کرناٹک حکومت کی جانب سے فروری 2022 کے متنازع حکم نامہ کوواپس لینے اورنئے رہنما خطوط جاری کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جن کے تحت طلبا کومقررہ اسکولی یونیفارم کے ساتھ اپنے مذہبی اورروایتی شعائراختیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اے پی سی آرنے اس معاملے میں ان طلبا کوقانونی معاونت فراہم کی تھی، جوحجاب پابندی سے متاثرہوئے تھے، جبکہ یہ مقدمہ بعد ازاں سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیرِسماعت رہا، جہاں عدالت کی جانب سے تقسیم شدہ فیصلہ سامنے آیا تھا۔ اپنے جاری کردہ بیان میں اے پی سی آرنے کہا کہ گرچہ یہ اقدام تاخیرسے کیا گیا ہے، تاہم اس سے اُن طلبہ کی عزتِ نفس بحال ہوئی ہے جواپنی مذہبی شناخت اورتعلیم دونوں کوساتھ لے کرچلنا چاہتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق، حجاب یا دیگرمذہبی علامات اختیارکرنے کا حق نہ صرف ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 اور26 کے تحت مذہبی آزادی سے جڑا ہوا ہے بلکہ یہ اظہارِرائے کی آزادی اورہرفرد کی جسمانی خودمختاری کا بھی بنیادی حصہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ 2022 کی پابندی نے ہزاروں طالبات اوران کے خاندانوں کوشدید ذہنی، تعلیمی اورسماجی نقصان پہنچایا۔ متعدد طالبات کوکلاس رومزمیں داخلے سے روکا گیا خاندانوں کو ہجوم کے نفرتی رویّوں کا سامنا کرنا پڑا اورطالبات کواپنے ایمان اورتعلیم کے درمیان انتخاب پرجبراً مجبورکیا گیا۔ اے پی سی آرکے مطابق، اس نقصان کا مکمل ازالہ ممکن نہیں، تاہم تعلیمی اداروں کو مزید جامع، باوقاراورمتنوع شناخت کے احترام پرمبنی ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ تنظیم نے واضح کیا کہ یونیفارم پالیسیوں کا مقصد نظم وضبط اوراجتماعی شناخت کوفروغ دینا ہے، نہ کہ کسی مذہبی یا سماجی طبقے کے لیے تعلیمی ماحول کوغیردوستانہ بنانا۔ نئے رہنما خطوط اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ حجاب، پگڑی یا مقدس دھاگے جیسے مذہبی شعائرتعلیمی نظام میں رکاوٹ نہیں ہیں بلکہ شمولیت اورتنوع کے مظہرہیں۔ اے پی سی آرنے اس بات کو بھی سراہا کہ نئے رہنما خطوط میں واضح طورپرکہا گیا ہے کہ کسی بھی طالب علم کومنظورشدہ مذہبی علامت پہننے کی بنیاد پرکلاس روم یا امتحان میں داخلے سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے، اورنہ ہی کسی طالب علم کو ایسی علامات پہننے یا اتارنے پرمجبورکیا جا سکتا ہے۔ تنظیم نے کرناٹک کے تمام اسکولوں اورکالج انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان رہنما خطوط پرمکمل سنجیدگی اورغیرجانبداری کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اے پی سی آرنے تمام سیاسی جماعتوں اورعوامی نمائندوں پربھی زوردیا کہ وہ اس معاملے کومزید فرقہ وارانہ رنگ دینے سے گریزکریں، کیونکہ تعلیم کونظریاتی یا سیاسی کشمکش کا میدان بنانے کے بجائے سیکھنے اورترقی کا محفوظ ذریعہ رہنا چاہئے۔ اخیرمیں اے پی سی آرنے اعادہ کیا کہ وہ مذہب، ذات یا برادری سے بالاترہوکرتمام شہریوں کے شہری حقوق اورآئینی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اوراگرکسی طالب علم یا خاندان کوامتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا توتنظیم ان کی قانونی وسماجی معاونت کے لیے ہروقت تیاررہے گی۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات