National

کرناٹک ہائی کورٹ نے کانگریس ایم ایل اے کا انتخاب کیا منسوخ، نامزدگی فارم میں خامیوں کو قرار دیا بنیاد

کرناٹک ہائی کورٹ نے کانگریس ایم ایل اے کا انتخاب کیا منسوخ، نامزدگی فارم میں خامیوں کو قرار دیا بنیاد

ریاست کرناٹک کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر کرناٹک ہائی کورٹ نے باگے پلی اسمبلی حلقے سے منتخب کانگریس کے رکن اسمبلی ایس این سبا ریڈی کے انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ بی جے پی امیدوار سی منی راجو کی جانب سے دائر انتخابی عرضی پر سنایا، جس میں نامزدگی فارم میں مبینہ بے ضابطگیوں، جائیداد چھپانے اور غلط حلف نامہ داخل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جسٹس ایم جی ایس کمل کی سربراہی میں قائم بنچ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد سبا ریڈی کے انتخاب کو غیر مؤثر قرار دینے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے کی نقل الیکشن کمیشن آف انڈیا اور اسمبلی سکریٹری کو بھی ارسال کر دی ہے تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق آئندہ کی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سبا ریڈی نے 2023 کے اسمبلی انتخابات کے دوران داخل کیے گئے اپنے کاغذات نامزدگی میں بعض جائیدادوں کی مکمل تفصیل فراہم نہیں کی تھی۔ عرضی گزار منی راجو، جو اس حلقے سے انتخاب ہار گئے تھے، نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کامیاب امیدوار نے نہ صرف اپنی اثاثہ جاتی معلومات کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا بلکہ ایک مبینہ طور پر غلط حلف نامہ بھی جمع کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جائیدادوں پر واجب الادا ٹیکس کی تفصیل بھی نامزدگی فارم میں شامل نہیں کی گئی، جو انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب سبا ریڈی کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ عرضی کو خارج کیا جائے کیونکہ مبینہ خامیاں انتخابی نتیجے پر اثر انداز نہیں ہوئیں۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو تسلیم نہیں کیا اور قرار دیا کہ امیدوار پر لازم ہے کہ وہ اپنے کاغذات نامزدگی میں مکمل شفافیت برتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ غلط یا نامکمل حلف نامہ دینا انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرتا ہے، اس لیے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ عدالت نے سبا ریڈی کا انتخاب منسوخ کر دیا ہے، تاہم اس نے عرضی گزار منی راجو کو جیت قرار دینے سے انکار کر دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد یہ نشست خالی تصور کی جائے گی اور آئینی تقاضوں کے مطابق دوبارہ انتخاب کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اعلیٰ عدالت سے کوئی عبوری ریلیف حاصل نہ کیا جائے۔ سبا ریڈی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ فیصلے پر عمل درآمد کو کچھ مدت کے لیے روکا جائے تاکہ وہ سپریم کورٹ آف انڈیا سے رجوع کر سکیں۔ تاہم عرضی گزار کے وکیل نے اس درخواست کی مخالفت کی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر سپریم کورٹ مقررہ مدت کے اندر ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک نہیں لگاتی تو باگے پلی حلقے میں ضمنی انتخاب ناگزیر ہوگا۔ واضح رہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں سبا ریڈی نے انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ منی راجو بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار تھے۔ تازہ عدالتی فیصلے نے ریاستی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے دور رس سیاسی اثرات متوقع ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments