National

قربانی کے پوسٹر پر گائے کی تصویر لگانے پر دو نوجوان گرفتار

قربانی کے پوسٹر پر گائے کی تصویر لگانے پر دو نوجوان گرفتار

فتح پور: اتر پردیش کے ضلع فتح پور کے للولی علاقے میں قربانی سے متعلق ایک پوسٹر میں گائے کی تصویر استعمال کیے جانے کے معاملے نے تنازعہ کی شکل اختیار کر لی، جس کے بعد پولیس نے دو مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نوجوانوں نے متنازعہ پوسٹر کو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر لگایا تھا، جس پر ایک ہندو تنظیم کے مقامی لیڈر کی شکایت کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی مسجد کمیٹی کی جانب سے قربانی اور عطیات سے متعلق ایک پوسٹر جاری کیا گیا۔ اس پوسٹر میں ایک جانب بکرے کی تصویر جبکہ دوسری جانب گائے کی تصویر استعمال کی گئی تھی۔ پوسٹر سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد بعض حلقوں نے اس پر اعتراض ظاہر کیا اور معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔ مقامی ہندو تنظیم کے لیڈر پردیپ کمار نے پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پوسٹر میں گائے کی تصویر استعمال کرکے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے محمد غفران اور زین العابدین کو گرفتار کر لیا، جنہوں نے اس پوسٹر کو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر شیئر کیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کی گئی تاکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ دونوں ملزمان کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے گئے ہیں اور پوسٹر کی اصل تیاری اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق مزید جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پوسٹر قربانی میں حصہ لینے اور عطیات کی اپیل سے متعلق تھا، تاہم اس میں گائے کی تصویر شامل ہونے کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوگیا۔ حکام نے کہا کہ سوشل میڈیا پر حساس نوعیت کے مواد کو شیئر کرتے وقت احتیاط برتنا ضروری ہے، کیونکہ اس طرح کے معاملات فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔ ادھر مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیز پوسٹ یا افواہ کو سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں اور علاقے میں امن و بھائی چارہ برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی جانچ میں معلوم ہوا ہے کہ پوسٹ کے ذریعے قربانی میں حصہ لینے کی اپیل کی گئی تھی، لیکن اس میں استعمال ہونے والی تصویر کی وجہ سے معاملہ حساس ہوگیا۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا پوسٹ جان بوجھ کر شیئر کی گئی تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد تھا۔ واضح رہے کہ عید الاضحی کے موقع پر ہر سال مختلف مسلم تنظیموں اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے مسلمانوں کے لیے رہنما ہدایات جاری کی جاتی ہیں، جن میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ جن ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے وہاں قانون کا مکمل احترام کیا جائے۔ ساتھ ہی حساس ویڈیوز یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے کی بھی تلقین کی جاتی ہے۔ حال ہی میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ایک بیان میں گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اس سے قبل بھی بعض مسلم رہنماؤں کی جانب سے اس نوعیت کی اپیلیں سامنے آتی رہی ہیں تاکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ مسلم رہنماؤں کی جانب سے جاری کی جانے والی ایڈوائزری میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قربانی صرف مقررہ مقامات پر کی جائے، کھلے عام جانور ذبح کرنے سے گریز کیا جائے اور قربانی کے بعد صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ اس کے علاوہ جانوروں کی قربانی سے متعلق حساس تصاویر یا ویڈیوز انٹرنیٹ پر ڈالنے سے منع کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی طبقے کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ فتح پور میں پیش آئے اس واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ پوری طرح چوکس ہوگئی ہے۔ پولیس اور انتظامی حکام کا کہنا ہے کہ عید الاضحی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حساس علاقوں میں اضافی فورس تعینات کی جائے گی اور سوشل میڈیا پر بھی مسلسل نگرانی رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی افواہ یا اشتعال انگیز مواد کو بروقت روکا جا سکے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments