National

کوٹ دوار بابا دکان تنازع: محمد دیپک کے جم کے 90 فیصد ارکان گھٹ گئے، مالی بحران کا سامنا

کوٹ دوار بابا دکان تنازع: محمد دیپک کے جم کے 90 فیصد ارکان گھٹ گئے، مالی بحران کا سامنا

کوٹ دوار: دیپک کمار، جو خود کو 'محمد دیپک' بھی بتاتے ہیں، اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک جم چلاتے ہیں۔ اس وقت انہیں مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک تنازع کے بعد ان کی جم رکنیت میں بھاری گراوٹ درج کی گئی ہے۔ دیپک کے مطابق، ان کے جم میں پہلے روزانہ تقریباً 150 افراد ورزش کرنے آنے تھے، لیکن اب یہ تعداد گھٹ کر صرف 12-15 ارکان تک محدود ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا جم کرائے کی عمارت میں چلتا ہے۔ پہلے صبح سے شام تک مسلسل رش لگا رہتا تھا لیکن 26 جنوری کو پیش آئے واقعے کے بعد صورت حال بالکل بدل گئی۔ دیپک بتاتے ہیں کہ 26 جنوری کو انہوں نے ایک 70 سالہ مسلم دکاندار کی حمایت میں بات کی۔ در اصل ہندو تنظیموں کے کچھ لوگ بزرگ مسلم دکاندار پر دکان کا نام بدلنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔ ان کی دکان کا نام ''بابا'' ہے۔ ہندو تنظیموں کے ارکان بزرگ پر لفظ 'بابا' ہٹانے کے لیے ہنگامہ کر رہے تھے۔ اسی بیچ دیپک آگے آئے اور بزرگ دکاندار کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔ جھگڑے کے دوران جب دیپک کا نام پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ میرا نام محمد دیپک ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے وائرل ہو گیا، جس نے دیپک کو راتوں رات مشہور کر دیا۔ تاہم، اس واقعے کے بعد سے انہیں احتجاج اور بائیکاٹ کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس کا براہ راست اثر ان کے جم کے کام پر پڑا۔ اب جم کی رکنیت میں بھاری گراوٹ نے ان کے سامنے مالی بحران بھی پیدا کر دیا ہے۔ دیپک کا کہنا ہے کہ 31 جنوری کو بجرنگ دل کے کچھ ارکان ان کے خلاف احتجاج کرنے ان کے جم میں پہنچے، لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ تاہم، اس واقعے سے علاقے میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی، اور جم آنے والے لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ دیپک کے مطابق، "31 جنوری کے واقعے کے بعد جم کے ممبرز خوفزدہ ہو گئے ہیں اور انہوں نے جم آنا چھوڑ دیا ہے"۔ انہوں نے اپنی مالی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ دیپک نے وضاحت کی کہ جم دوسری منزل پر ہے، جس کا کرایہ 40,000 روپے ماہانہ ہے، اور یہ ان کے خاندان کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔ اس نے چھ ماہ قبل ایک گھر بھی بنایا تھا جس کے لیے انہیں لون کی 16,000 روپے ماہانہ قسط ادا کر رہے ہیں۔ اس واقعے نے ان کے خاندان اور صحت کو بھی متاثر کیا۔ دیپک نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوگئی اور ان کی بیٹی نے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ اب پچھلے دو دنوں سے وہ دوبارہ سکول جا رہی تھی مگر صرف ان کے ساتھ۔ دیپک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 31 جنوری کو کچھ لوگ جم میں داخل ہوئے، جہاں کئی مرد اور خواتین ارکان جم کر رہے تھے۔ اس واقعے سے ارکان خوفزدہ ہو گئے، اس کے بعد سے لوگوں نے جم آنا چھوڑ دیا۔ نقصانات کے باوجود، دیپک پر امید ہیں کہ وقت کے ساتھ حالات بہتر ہوں گے اور پرانے ارکان واپس آئیں گے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments