ممبئی ،21 جنوری: کلّیان-ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن میں بلدیاتی انتخابات کے بعد اب جو سیاسی صورتحال سامنے آئی ہے ، وہ محض میئر کے انتخاب تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اقتدار، اتحادی سیاست اور مستقبل کی سیاسی سمت کا امتحان بن چکی ہے ۔ انتخابی نتائج کے فوراً بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ مہایوتی کو عددی برتری حاصل ہے ، مگر اسی برتری نے اندرونی اختلافات کو جنم دے دیا، جس کا مرکز میئر کی کرسی بن گئی۔ انتخابی نتائج میں شندے گروپ کی شیوسینا سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، جبکہ بی جے پی نے بھی خاطر خواہ نشستیں حاصل کر کے اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا (یو بی ٹی) کو عوامی سطح پر نقصان اٹھانا پڑا اور پارٹی محدود نشستوں تک سمٹ گئی، جب کہ مہاراشٹر نونرمان سینا نے چند سیٹیں جیت کر خود کو طاقت کے توازن میں ایک اہم عنصر کے طور پر پیش کیا۔ بظاہر اقتدار مہایوتی کے پاس دکھائی دیتا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس اقتدار کی علامت، یعنی میئر کا عہدہ کس کے حصے میں آئے گا۔ شندے گروپ ابتدا ہی سے اس م¶قف پر قائم ہے کہ سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کے باعث میئر کا حق اسی کا بنتا ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی، جو ریاستی سیاست میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے ، عوامی سطح پر خود کو ثانوی کردار میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی اختلاف آہستہ آہستہ اندرونی بات چیت سے نکل کر کھلے سیاسی دبا¶ میں تبدیل ہو گیا۔ کئی اجلاس اور مشاورتیں ہوئیں، مگر اتفاقِ رائے اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ اسی دوران ایم این ایس کی غیر متوقع سرگرمی نے سیاسی بساط کو مزید الجھا دیا ہے ۔ شندے گروپ کو حمایت دینے کے اشاروں نے عددی کھیل کا رخ بدلنے کا امکان پیدا کر دیا ہے ، جس سے بی جے پی پر دبا¶ میں اضافہ ہوا ہے ۔ اگر یہ حمایت عملی شکل اختیار کرتی ہے تو میئر کی کرسی کا پلڑا واضح طور پر شندے گروپ کے حق میں جھک سکتا ہے ، جس کے اثرات صرف کے ڈی ایم سی تک محدود نہیں رہیں گے ۔ ادھر ادھو ٹھاکرے گروپ کی شیوسینا کے لیے صورتحال مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے ۔ انتخابی ناکامی کے بعد پارٹی میں بے چینی بڑھ گئی ہے ۔ دو منتخب کارپورٹروں کے اچانک غیرمتعلق ہونے کی خبریں سامنے آئیں، جن پر قیادت کو نوٹس جاری کرنے پڑے ۔ اس نے دل بدل اور وفاداریوں میں تبدیلی سے متعلق افواہوں کو مزید تقویت دی ہے ۔ سیاسی کھینچا تانی کا اثر میونسپل انتظامیہ پر بھی پڑ رہا ہے ۔ میئر اور اسٹیڈنگ کمیٹی کی تشکیل میں تاخیر کے باعث ترقیاتی منصوبے ، بجٹ سے متعلق فیصلے اور شہری سہولیات کے اہم معاملات رکے ہوئے ہیں۔ عوام میں یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اقتدار کی لڑائی میں عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر کلّیان-ڈومبیولی اس وقت ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اقتدار تقریباً طے دکھائی دیتا ہے مگر سیاسی انا اور اختیارات کی تقسیم نے حتمی فیصلہ روک رکھا ہے ۔ آنے والے دنوں میں میئر کے انتخاب کے ساتھ ہی یہ واضح ہو جائے گا کہ مہایوتی کے اندر طاقت کا توازن کس سمت جاتا ہے ۔
Source: uni news
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو