National

کھؑڑگے کا رام مندر تحریک پر مرکز اور بی جے پی پر حملہ، بے ضابطگیوں کے الزامات

کھؑڑگے کا رام مندر تحریک پر مرکز اور بی جے پی پر حملہ، بے ضابطگیوں کے الزامات

بنگلورو، 22 جون: کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے پیر کے روز بنگلورو میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے رام مندر تحریک کے حوالے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس معاملے میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ۔انہوں نے ہندی محاورہ 'رام نام جپنا، پرایا مال اپنا' کا استعمال کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکمراں جماعت نے مذہبی جذبات کو سیاسی اور مالی فائدے کے لیے استعمال کیا ہے ۔مسٹرکھڑگے نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کے نام پر پہلے رتھ یاترا نکالی گئی، جس کی قیادت لال کرشن اڈوانی نے کی۔ اس دوران اینٹیں، سونا، رقم اور دیگر عطیات جمع کیے گئے ، لیکن ان وسائل کا کوئی حساب عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا، ''کسی کو معلوم نہیں کہ جمع کی گئی رقم اور وسائل کہاں گئے ۔'' کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے بعد بھی بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض رپورٹس میں مندر سے تقریباً 5,000 کروڑ روپے کے مالی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور بعض پجاریوں کے ملوث ہونے کی بھی بات کہی جا رہی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا، ''کیا مندر اس لیے بنایا گیا تھا کہ بھگوان کے نام پر کروڑوں روپے لوٹے جائیں؟'' کھرگے نے رام مندر کے افتتاح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود اس تقریب کی قیادت کی، جو ان کے مطابق روایتی طریقئہ کار سے مختلف تھا۔ انہوں نے کہا، ''میں نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔ عموماً مندروں کا افتتاح سنت یا مذہبی شخصیات کرتی ہیں، لیکن یہاں وزیر اعظم نے خود سنگِ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اور دروازے بھی خود کھولے ۔'' کانگریس صدر نے رام مندر سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے قرض کی وصولی سے متعلق بیان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی معاملات کی آڑ میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے ۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ حکمراں جماعت عقیدے اور مذہبی جذبات سے سیاسی فائدہ حاصل کر رہی ہے اور اسی وجہ سے اس سے وابستہ معاملات میں شفافیت اور جوابدہی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments