نئی دہلی، 19 جون : سپریم کورٹ نے کارپوریٹ قرض داروں، اثاثہ جاتی تعمیرِ نو کمپنیوں (اے آر سی) اور سرکاری شعبے کے بینکوں کے درمیان گہرے گٹھ جوڑ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ ناقابلِ وصول قرضوں کے تصفیے کے اس کھیل کے باعث بینکوں میں جمع ٹیکس دہندگان کے عوامی سرمائے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے ۔ عدالت نے اس سلسلے میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، سیریس فراڈ انویسٹی گیشن آفس (ایس ایف آئی او)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی)، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے تبصرہ کیا کہ بینک عوام کا پیسہ قرض کے طور پر دینے کے بعد اس کی وصولی کے لیے سنجیدہ کوششیں کیے بغیر اتنی بڑی رعایت کے ساتھ سمجھوتوں پر رضامند نہیں ہو سکتے ۔ بنچ نے عوامی سرمائے کو قرض کی شکل میں تقسیم کرنے اور بعد میں اسے ''دبا¶ کا شکار اثاثہ'' قرار دے کر اے آر سی کے ذریعے نہایت کم رقم پر نمٹانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ۔ جسٹس سوریہ کانت نے اس طرزِ عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس دہندگان سے حاصل کیے گئے عوامی سرمائے کو لاپروائی سے قرض کے طور پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور پھر بعد میں کل بقایا رقم کے نہایت معمولی حصے کے طور پر وصول کیا جائے ۔ ایسے رویے کو ''کاروباری دانشمندی'' کا نام دے کر قبول نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب معاملہ عوام کے پیسے سے متعلق ہو۔ عوامی سرمائے سے جڑے ان سنگین الزامات کو نظرانداز نہ کرنے کی بات کرتے ہوئے بنچ نے کہاکہ ''اگر کسی دھوکہ دہی کو عدالت کے علم میں لایا گیا ہے اور ہم آنکھیں بند کر لیں تو یہ مستقبل میں مزید خطرات کو فروغ دینے کے مترادف ہوگا۔'' عدالت نے کہا کہ اگر اسی نوعیت کے دیگر معاملات اس کے سامنے لائے جاتے ہیں تو وہ ان کی بھی جانچ کے لیے تیار ہے ۔ عدالت نے یہ ریمارکس جے کے ایم انفرا معاملے کی تحقیقات کے مطالبے پر دائر مفادِ عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران دیے ۔ عرضی کے مطابق جے کے ایم انفرا نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی قیادت میں سات بینکوں کے کنسورشیم سے 1537 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا۔ کمپنی قرض واپس کرنے میں ناکام رہی اور آخرکار اس کھاتے کا تصفیہ اے آر سی کے ذریعے محض 73.50 کروڑ روپے میں کر دیا گیا۔
Source: UNI NEWS
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات