چنئی، 31 دسمبر:لوک سبھا میں کانگریس کے وہپ مانیکم ٹیگور نے بدھ کے روز انڈیا اتحاد میں شامل دراوڑ منیترا کزگم(ڈی ایم کے ) کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا اور یہ بتانا بند کریں کہ پارٹی کو کس طرح چلنا چاہیے ۔ قابلِ ذکر ہے کہ ودوتھلائی چروتھائیگل کچی (وی سی کے )، مرومالارچی دراوڑ منیترا کزگم (ایم ڈی ایم کے )، مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے حال ہی میں راہل گاندھی سے آل انڈیا پروفیشنلز کانگریس کے صدر پروین چکرورتی پر لگام لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ مسٹر چکرورتی نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اتر پردیش کے مقابلے تمل ناڈو کے قرض کا بوجھ تشویشناک ہے ۔ مسٹر ٹیگور نے اتحادیوں کے اس مطالبے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا، "ہمارے اتحادیوں نے کب سے ہمیں یہ بتانا شروع کر دیا کہ پارٹی کیسے چلانی ہے ؟" یہ پورا تنازع مسٹر چکرورتی کی 'ایکس' پر کی گئی ایک پوسٹ سے شروع ہوا، جس میں انہوں نے ایم کے اسٹالن کی قیادت والی حکومت کے مالیاتی صورتحال کے دعووں پر سوال اٹھائے تھے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمل ناڈو قرض کے معاملے میں بی جے پی کی حکومت والے اتر پردیش سے آگے نکل گیا ہے ، جس سے ڈی ایم کے اور اس کے اتحادیوں میں بے چینی پیدا ہو گئی، کیونکہ مسٹر چکرورتی کو راہل گاندھی کا قریبی سمجھا جاتا ہے ۔ مسٹر ٹیگور نے 'ایکس' پر متعلقہ پارٹیوں کے رہنما¶ں کو ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا، "میں نے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں جن میں وی سی کے ، ایم ڈی ایم کے ، سی پی آئی ایم اور سی پی آئی اپوزیشن لیڈر سے کانگریس عہدیدار کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے ۔ اتحادیوں نے کب سے ہماری پارٹی چلانے کے لیے ہدایات دینا شروع کر دی ہیں؟ کیا وہ اپنی پارٹیوں میں اس طرح کی مداخلت قبول کریں گے ؟" وہپ نے کہا، "اختلافات پر اتحاد کے پلیٹ فارم کے اندر بحث ہونی چاہیے نہ کہ میڈیا کے ذریعے عوامی طور پر، کیونکہ یہ ایک خطرناک مثال ہے اور اس سے صرف بی جے پی اور آر ایس ایس خاندان کو فائدہ پہنچے گا۔" دریں اثنا، تمل ناڈو کانگریس کمیٹی (ٹی این سی سی) کے صدر کے سیلواپیرونتھاگئی نے بھی اتحادیوں سے کانگریس کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرنے کی اپیل کی۔ حالانکہ سیلواپیرونتھاگئی نے پہلے مسٹر چکرورتی کی تنقید کی تھی۔ دوسری طرف سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس رہنما پی چدمبرم نے اپنے آبائی علاقے کرائیکوڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے جب پروین چکرورتی تنازعات میں گھرے ہیں۔ اس سے پہلے ، انہوں نے اداکار سے سیاست داں بننے والے وجے کی نئی پارٹی تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے ) کے رہنما¶ں سے ملاقات کی تھی۔ اس سے ان قیاس آرائیوں کو ہوا ملی تھی کہ کانگریس 2026 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ٹی وی کے کے ساتھ اتحاد کی طرف جھک رہی ہے ، کیونکہ وجے نے اقتدار میں شراکت داری کے اشارے دیے تھے ۔ اس واقعے سے ڈی ایم کے میں ناراضگی پیدا ہو گئی تھی، لیکن کانگریس نے فوری طور پر پانچ رکنی پینل تشکیل دیا اور مسٹر سیلواپیرونتھاگئی نے دہرایا کہ ڈی ایم کے کے ساتھ کانگریس کا اتحاد اٹوٹ ہے اور ٹی وی کے کے ساتھ اتحاد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Source: uni news
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو