National

'کاکروچ جنتا پارٹی' سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث، فالوورز کے معاملے میں بڑی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا

'کاکروچ جنتا پارٹی' سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث، فالوورز کے معاملے میں بڑی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا

نئی دہلی، 21 مئی : ہندستان کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کی ایک حالیہ سماعت کے دوران کیا گیا تبصرہ ان دنوں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ۔ ایک وکیل کی عرضی پر سماعت کے دوران انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی تھی۔بعد میں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنقید صرف فرضی ڈگری رکھنے والوں کیلئے تھی اور انہیں نوجوانوں پر فخر ہے ۔تاہم ان کے ''کاکروچ'' والے بیان اور اس وضاحت کے درمیان ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جو اس وقت پورے ملک میں وائرل رجحان بن چکا ہے ۔ یہ رجحان ''کاکروچ جنتا پارٹی'' کا ہے ، جس پر نہ صرف سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے بلکہ مہوا موئترا، منیش سسودیا اور اکھلیش یادو جیسے سیاسی رہنما بھی اس پر تبصرہ کر چکے ہیں۔15 مئی کو چیف جسٹس کے بیان کے بعد وجود میں آنے والی اس پارٹی نے 21 مئی تک انسٹاگرام پر فالوورز کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔اس وقت کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام صفحے پر ایک کروڑ 35 لاکھ فالوورز موجود ہیں، جو ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے زیادہ ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے 88 لاکھ سے زیادہ جبکہ کانگریس کے ایک کروڑ 33 لاکھ فالوورز ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کو ایک طنزیہ سیاسی تحریک قرار دیا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کے 15 مئی کے بیان کے بعد 16 مئی 2026 کو انٹرنیٹ پر طنزیہ انداز میں شروع ہونے والی یہ تحریک چند ہی دنوں میں ملک کے نوجوانوں، خاص طور پر جین زی نسل کے درمیان مقبول ہو گئی۔ پارٹی کا نام بھی چیف جسٹس سوریہ کانت کے اسی بیان سے متاثر ہے ، جس میں انہوں نے بے روزگار اور سوشل میڈیا پر اپنی رائے رکھنے والے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ سے کیا تھا۔اگرچہ چیف جسٹس نے بعد میں واضح کیا کہ ان کا اشارہ فرضی ڈگری رکھنے والوں کی طرف تھا، لیکن سوشل میڈیا پر کئی حلقوں نے اس لفظ کو سیاسی شناخت کے طور پر اختیار کرنا شروع کر دیا۔یہ پارٹی خود کو سست اور بے روزگار نوجوانوں کی آواز قرار دیتی ہے ۔

Source: Uni News

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments