اردن کے سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے محکمۂ پبلک سکیورٹی نے گذشتہ جمعے کو الکرک میں واقع حمود چرچ پر حملے میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بیان کے مطابق ’دہشت گرد حملے‘ کے فوراً بعد شروع ہونے والی تلاش اور چھاپہ مار کارروائیاں پیر کی علی الصباح تک جاری رہیں، جس کے بعد تینوں مشتبہ افراد کا سراغ الکرک گورنری کے ایک ویران مکان میں لگایا گیا۔
پبلک سکیورٹی کے مطابق خصوصی تحقیقاتی اور چھاپہ مار ٹیموں نے مسلح جھڑپ کے بعد تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران تینوں مشتبہ افراد زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
اردن کے وزیرِ مواصلات اور حکومتی ترجمان محمد المومنی نے کہا: ’ہم اردن کے امن اور شہریوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کریں گے اور کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’دہشت گردی کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔ دین، روایات اور اخلاقیات سے منحرف اس گروہ کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنے اعمال کا انجام بھگتنا پڑا۔‘
دوسری جانب وزیرِ داخلہ مازن الفرایہ نے اعلان کیا کہ مشترکہ سکیورٹی آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور اس کے نتیجے میں تینوں مشتبہ افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں۔
انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ہم نے قاتلوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہم ان تمام عوامل کا جائزہ لیں گے جو نوجوانوں کو انتہاپسندی کی طرف لے جاتے ہیں، اور ہر اس شخص کا احتساب کریں گے جس کی شمولیت ثابت ہوئی۔ ہم اس سانحے کو ایسے اقدامات میں تبدیل کریں گے جو شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو مزید مضبوط بنائیں۔‘
اردن کے سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے محکمۂ پبلک سکیورٹی نے گذشتہ جمعے کو الکرک میں واقع حمود چرچ پر حملے میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں نو افراد ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments