خبر رساں ادارے انادولو اور روئٹرز کے مطابق، یمنی حوثیوں نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی فورسز نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع آئل ریفائنری کی جانب بیلسٹک میزائل داغا۔
یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا اور وہاں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی حکام کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
اس سے قبل منگل کو سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے نجران، ابہا اور خمیس مشیط میں ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر ابتدائی انتباہی الرٹ جاری کیے تھے۔ بعدازاں حکام نے خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا، تاہم اس کی نوعیت نہیں بتائی۔
یہ پیش رفت حوثی جنگجوؤں اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔
اس سے قبل سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب داغے گئے حوثیوں کے چار ڈرونز اور تین بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا ہے۔
حوثی جنگجوؤں نے جولائی سے سعودی عرب پر حملوں میں تیزی لائی ہے۔ اکتوبر کے دوران ملک کے شہری ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور فوجی مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
سعودی عرب مارچ 2015 سے یمنی حکومت کی حمایت میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ حوثیوں پر ایران کی حمایت حاصل کرنے کا الزام ہے اور یہ گروہ ستمبر 2014 سے دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے مختلف علاقوں پر قابض ہے۔
خبر رساں ادارے انادولو اور روئٹرز کے مطابق، یمنی حوثیوں نے منگل کو دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments