نئی دہلی: لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے بدھ کو قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت ان کی نظربندی کی بنیاد پر سوال اٹھایا اور کہا کہ مرکزی حکومت ان کے بیانات کا زیادہ مطلب نکال رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورلے کی بنچ کو بتایا کہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کے بعد سے 24 طبی معائنے کیے گئے ہیں اور وہ "فٹ اور صحت مند" ہیں اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ جن بنیادوں پر وانگچک کی گرفتاری کا حکم جاری کیا گیا تھا وہ درست ہیں اور صحت کی بنیاد پر انہیں رہا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ مہتا نے کہا، "ہم نے وقتاً فوقتاً 24 بار ان کی صحت کی جانچ کی ہے۔ وہ تندرست اور ٹھیک ہیں۔ انہیں ہاضمے کے کچھ مسائل تھے، ان کا علاج چل رہا ہے۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم اس طرح کی چھوٹ نہیں دے سکتے۔" مہتا نے کہا کہ نظر بندی کے حکم کی وجوہات جاری ہیں اور صحت کی بنیاد پر انھیں رہا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ "یہ مناسب نہیں ہو سکتا۔ ہم نے اس پر غور کیا ہے۔" مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے یہ بھی کہا کہ وانگچک پرتشدد مظاہروں کو بھڑکانے میں اہم شخص کے طور پر شامل تھے۔ بنچ کے سامنے دلیل دی گئی کہ وانگچک نے نیپال اور عرب بہار کی مثالیں دے کر نوجوانوں کو اکسایا۔ بنچ نے پوچھا، "وہ یہ کہاں کہہ رہے ہیں؟ وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے (نوجوانوں) نے اسے اپنا لیا ہے، وہ خود حیران ہیں۔" کے ایم نٹراج نے جواب دیا کہ بیان کی تشریح کی ضرورت ہے۔ نٹراج نے کہا، "براہ کرم اگلے نکتے کی طرف آئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لداخ میں مسلح افواج کی تعیناتی بدقسمتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نوجوان کہہ رہے ہیں کہ پرامن طریقے کارآمد ثابت نہیں ہوئے ہیں۔" سپریم کورٹ نے کہا، "وہ کہہ رہے ہیں کہ نوجوان یہ کہہ رہے ہیں۔ پورا جملہ پڑھیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ تشویشناک بات ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ پرتشدد طریقے صحیح نہیں ہیں..." بنچ نے کہا، "آپ اس میں بہت زیادہ مطلب نکال رہے ہیں۔" بنچ نے سوال کیا کہ وانگچک کے پچھلے بیانات گزشتہ سال لیہہ میں ہوئے تشدد سے کیسے جڑے ہوئے تھے۔ نٹراج نے کہا کہ لداخ میں حالات نازک ہیں اور اگر احتیاطی تدابیر نہ کی جاتیں تو یہ مزید خراب ہو جاتی۔ بنچ نے کہا، "وہ پریشان ہے۔۔۔ہمیں پورے الفاظ کو سنناہوگا۔۔۔اسے پڑھیں۔۔۔'کچھ لوگ گاندھی کے پرامن طریقوں کو چھوڑ رہے ہیں، یہ تشویش کی بات ہے'... توجہ عدم تشدد کے طریقوں سے ہٹ رہی ہے، یہ تشویش کی بات ہے۔۔۔" سپریم کورٹ جمعرات کو بھی کیس کی سماعت جاری رکھے گی۔ وکیل سروام رتم کھرے نے بنچ کے سامنے وانگچک کی اہلیہ کی نمائندگی کی۔ سپریم کورٹ وانگچک کی بیوی گیتانجلی انگمو کی طرف سے دائر کی گئی ہیبیس کارپس کی درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس میں قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) 1980 کے تحت ان کو جیل میں رکھنے کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انگمو نے کہا کہ گزشتہ سال 24 ستمبر کو لیہہ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے لیے وانگچک کے اقدامات یا بیانات کو کسی بھی طرح ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو