National

حج 2026: جموں و کشمیر سے  بھی عازمین کا پہلا قافلہ روانہ

حج 2026: جموں و کشمیر سے بھی عازمین کا پہلا قافلہ روانہ

سرینگر ): جموں و کشمیر سے 435 حجاج کرام پر مشتمل پہلے قافلے کے سفرِ مبارک کا آغاز ہو گیا ہے۔ یو ٹی سے پہلا قافلہ حج ہاؤس سے سرینگر کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ وہاں سے یہ عازمین تین خصوصی پروازوں کے ذریعے مدینہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ پہلے قافلے میں 234 مرد جب کہ 201 خواتین عازمین شامل ہیں۔ 145 عازمین کو لے کر پرواز دوپہر 12 بجکر 20 منٹ پر سرینگر سے اپنی اڑان بھرا۔ دوسری فلائٹ شیڈول کے مطابق 2 بجکر 15 منٹ پرروانہ ہوہی جبکہ تیسری پرواز سہ پہر 3 بجکر 15 منٹ سرینگر سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگی۔ ایسے میں حج ہاؤس بمنہ سے سرینگر کے ہوائی اڈے سے عازمین کے لیے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔ حجاج کرام کے سامان کی جانچ کے لیے جہاں ایک جانب حج ہاؤس میں چیک ان کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں۔ وہیں احرام باندھنے کے لیے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر الگ الگ جگہیں رکھی گئی ہیں۔ سنیچر کی صبح عازمین کے ہمراہ سینکڑوں کی تعداد میں آئے ان کے رشتہ دار مرد وزن اور بچے لبیک اللہم لبیک کے نعرے بلند کر رہے تھے، جس سے حج ہاؤس بمنہ کی فضائیں روح پرور نعروں اور درود واذکار سے گونج اٹھیں۔ امسال حج بیت اللہ کے لیے بھارت کے ایک لاکھ 75 ہزار 25 عازمین فریضہ حج انجام دینے جارہے ہیں۔ جن میں جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے 4704 عازمین بھی شامل ہیں۔ جس میں 2200 خواتین عازمین کے علاوہ بغیر محرم کی 13 خواتین عازم بھی شامل ہیں۔ جموں و کشمیر میں انتظامیہ اور جموں حج کمیٹی کی جانب سے کیے گئے انتظامات سے عازمین کافی خوش اور مطمئن نظر آئے۔ عازمین کی روانگی کے سلسلے میں حفاظت کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جب کہ حج ہاؤس کے علاوہ ایئر پورٹ روڑ پر سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ سال 2025 کے مقابلے میں حج 2026 کے لیے زیادہ درخواستوں موصول ہوئیں تھیں ۔اس طرح جموں کشمیر سے عازمین کی مجموعی تعداد 4704 ہے۔ جن میں 1000 دلی ایمبارکیشن استعمال کریں گے جب کہ 50 ایسے حجاج ہیں جو کہ ممبی ائیرپورٹ سے اپنا سفر شروع کرنے جارہے ہیں۔ باقی عازمین سرینگر ائیرپورٹ سے سفر محمود پر روانہ ہوں گے اور ان میں لداخ کے تقریباً 323 عازمین بھی شامل ہیں۔ وہیں سعودی عرب کی جانب سے امسال حجاج کرام کے لیے کئی تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں ہیں۔ متعارف کئے گئے ضوابط میں سخت صحت سکریننگ بھی شامل ہے، جس کے تحت سنگین طبی حالت کے حامل کچھ درخواست دہندگان کو نااہل بھی قرار دیا گیا ہے۔ عزیزیہ جیسی جگہوں پر عازمین کے لیے خود کھانا پکانے کی سہولت بند کردی گئیں ہیں۔ وہیں پہلی بار عازمین کی نگرانی کے مقصد کی خاطر سم پر مبنی ڈیٹا سے لیس سمارٹ واچز دی گئیں ہیں جو پہلے والے کلائی بندوں کی جگہ لیں رہی ہے۔ جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ایگزیٹو آفیسر ڈاکٹر شجاعت قریشی نے کہا کہ عازمین کے سامان کی حد 40 کلو سے کم کر کے 25 کلو کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر میں امیگریشن مکمل کی جائیں گی، جس کے بعد پروازیں ایندھن بھرنے کے لیے دلی میں رک کر مدینہ کے لیے روانہ ہوں گی۔ واضح رہے سال 2023 حج کے لیے 14,500 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں تھیں۔ ان میں سے 12,000 افراد کو قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیا گیا ۔ اُس وقت اگرچہ درخواستیں زیادہ موصول ہوئی تھیں تاہم کوٹا کم تھا۔ لیکن اس کے بعد سے جموں وکشمیر میں حج درخواستوں میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔ سال 2024 میں 11500 کے مختص کوٹ پر صرف 7,800 درخواستیں موصول ہوئیں۔ اسی طرح حج 2025 کے لیے 8100 حج سیٹوں پر کُل 4300 حج درخواستیں جمع کی گئیں تھیں۔ وہیں اب امسال یعنی حج 2026 میں 7900 کوٹے پر محض 4704 افراد جموں و کشمیر سے سفر محمود پر جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 18 اپریل سے عازمین حج کی روانگی کا سلسلہ شروع ہوکر رواں ماہ 28 اپریل تک جاری رہے گا۔ التبہ متعلقین کی جانب سے طے شدہ شیڈول میں تبدیلیوں کے امکانات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments