National

گیان واپی تنازعہ میٹنگ رہی بے نتیجہ، صرف 20 منٹ چلی میٹنگ، ہندو-مسلم دونوں فریقوں نے ثالثی سے کردیا انکار

گیان واپی تنازعہ میٹنگ رہی بے نتیجہ، صرف 20 منٹ چلی میٹنگ، ہندو-مسلم دونوں فریقوں نے ثالثی سے کردیا انکار

اترپردیش کے وارانسی واقع گیان واپی مسجد-شرنگارگوری تنازعہ معاملہ میں منگل کے روزسپریم کورٹ کی تجویزپرہونے والی ثالثی کی کوشش ناکام ہوگئی۔ لوک عدالت میں منعقدہ ثالثی میٹنگ میں ہندو اورمسلم دونوں فریق شریک ہوئے۔ تاہم دونوں نے باہمی سمجھوتے کے ذریعہ تنازعہ ختم کرنے سے انکارکردیا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر14 جولائی کووارانسی کی لوک عدالت میں ثالثی میٹنگ منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرکے گیان واپی تنازعہ کا پرامن حل تلاش کرنا تھا۔ میٹنگ میں گیان واپی سے متعلق مختلف مقدمات کے ہندوفریق، جن میں راکھی سنگھ، لکشمی دیوی، سومناتھ ویاس اوردیگرمقدمات سے وابستہ درخواست گزاراوروکلا شامل تھے، جبکہ مسلم فریق کی جانب سے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کے وکلا نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریق تقریباً 20 منٹ تک میڈی ایشن سینٹرمیں موجود رہے، لیکن بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی اورثالثی کی تجویزمسترد کردی گئی۔ ہندوفریق کے وکیل سدھیرترپاٹھی اوردرخواست گزارریکھا پاٹھک نے کہا کہ ان کا موقف ہے کہ گیان واپی دراصل ایک مندرہے اوراس کے شواہد آج بھی موجود ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندو فریق بغیرکسی شرط کے ثالثی کے لئے تیارتھا، لیکن مسلم فریق نے اس پرآمادگی ظاہرنہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے فی الحال نچلی عدالت میں سماعت پرروک لگا رکھی ہے اورآئندہ سماعت 27 جولائی کومقررہے۔ ہندوفریق اب سپریم کورٹ سے جلد سماعت کی درخواست کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ دوسری جانب مسلم فریق کے وکلا ممتازاحمد، رئیس انصاری، توحید احمد اوراخلاق احمد نے، جوانجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کی نمائندگی کررہے تھے، کہا کہ دونوں فریق سمجھوتے کے لیے تیارنہیں ہیں، اس لئے ثالثی کا عمل کامیاب نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق، اب اس معاملے کا فیصلہ صرف عدالت میں جاری مقدمات کی بنیاد پرہی ہوگا۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مغل دورمیں ایک قدیم مندرکومنہدم کرکے اس کی جگہ گیان واپی مسجد تعمیرکی گئی تھی، جبکہ مسلم فریق اس دعوے کوبے بنیاد قراردیتے ہوئے کہتا ہے کہ مسجد ایک قانونی وقف جائیداد ہے۔ دوسری جانب، انجمن انتظامیہ مساجد کے مشترکہ سکریٹری سید محمد یاسین نے کہا کہ گیان واپی معاملے میں کمیٹی کے خلاف تقریباً 36 مختلف مقدمات زیرسماعت ہیں، اس لئے یہ طے کرنا آسان نہیں کہ مذاکرات کس مقدمے یا کس فریق کے ساتھ کئے جائیں اورآیا تمام فریق کسی ایک موقف پرمتفق بھی ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ ثالثی اجلاس کے پیش نظروارانسی کچہری اورمیڈی ایشن سینٹرکے باہرسخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ بڑی تعداد میں پی اے سی اورسول پولیس کے اہلکارتعینات رہے، جبکہ لوک عدالت میں صرف گیان واپی معاملے سے متعلق فریقین اوران کے وکلا کوداخلے کی اجازت دی گئی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments