Entertainment

جیا بچن پاپا رازیوں پر ایک بار پھر آگ بگولہ

جیا بچن پاپا رازیوں پر ایک بار پھر آگ بگولہ

بالی ووڈ اداکارہ و سیاستدان جیا بچن پاپا رازی فوٹو گرافرز پر ایک بار پھر آگ بگولہ ہو گئیں، انہوں نے اس حوالے سے سوال کیا ہے کہ یہ لوگ میڈیا کی نمائندگی کے لیے کہاں سے آتے ہیں اور کیا انہیں تربیت ملی ہے؟ میڈیا کے مطابق جیا بچن حال ہی میں پھر پاپارازیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرنے کے سبب خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔ جیا بچن اکثر بغیر اجازت تصاویر لینے اور غیر اخلاقی تبصرے کرنے پر پاپارازی فوٹو گرافرز و صحافیوں کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرتی رہی ہیں، ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں پینل ڈسکشن کے دوران سینئر اداکارہ نے فوٹوگرافرز کے رویے، نامناسب تبصروں اور لباس پر شدید تنقید کی۔ تقریب کے دوران جب جیا بچن سے پاپارازی صحافیوں و فوٹو گرافرز کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ یہ عجیب بات ہے، میں میڈیا کی ہی پیداوار ہوں، لیکن پاپارازی صحافی و فوٹو گرافرز کے ساتھ میرا تعلق صفر ہے، یہ لوگ کون ہیں؟ کیا انہیں اس ملک کے لوگوں کی نمائندگی کے لیے تربیت دی گئی ہے؟ کیا آپ انہیں میڈیا کہتے ہیں؟ میں میڈیا سے آئی ہوں، میرے والد ایک صحافی تھے اور میں ایسے لوگوں کا بہت احترام کرتی ہوں۔ انہوں نے پاپارازیوں کے لباس اور رویے پر تنقید جاری رکھتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مگر یہ جو باہر ’ڈرین پائپ پینٹ‘ اور گندے گندے کپڑے پہن کر ہاتھ میں موبائل لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ صرف موبائل رکھنے سے وہ آپ کی تصویر لے سکتے ہیں اور جو چاہیں کہہ سکتے ہیں؟ اور وہ جس قسم کے تبصرے کرتے ہیں؟ یہ کس طرح کے لوگ ہیں؟ یہ کہاں سے آتے ہیں؟ ان کی تعلیم کیا ہے؟ ان کا پس منظر کیا ہے؟ کیا یہ ہماری نمائندگی کریں گے؟ صرف اس لیے کہ ان کے پاس سوشل میڈیا تک رسائی ہے؟ واضح رہے کہ جیا بچن وقتاً فوقتاً عوامی اجتماعات میں پاپارازیوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں اور انہیں متعدد بار مناسب رویہ اختیار کرنے کی تلقین بھی کر چکی ہیں۔ جیا بچن کو آخری بار کرن جوہر کی 2023ء کی فلم ’راکی اور رانی کی پریم کہانی‘ میں رنویر سنگھ اور عالیہ بھٹ کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments