National

گجرات میں 12 گھنٹوں میں 9 زلزلے

گجرات میں 12 گھنٹوں میں 9 زلزلے

گجرات کے راجکوٹ میں 12 گھنٹوں کے وقفے کے دوران 9 مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی وجہ سے لوگوں میں کافی خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان جھٹکوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 2.7 سے 3.8 کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ کل رات 8 بجے سے آج صبح 8 بجے تک یہ جھٹکے آئے، جس سے علاقے میں دہشت کا ماحول بن گیا۔ تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ اب تک کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ندوستان کا تقریباً 59 فیصد حصہ زلزلے کے لحاظ سے حساس مانا جاتا ہے۔ یہاں نومبر 2024 سے فروری 2025 کے درمیان مجموعی طور پر 159 زلزلے آ چکے ہیں۔ بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) نے زلزلے کے اعتبار سے ہندوستان کو چار زون میں تقسیم کیا ہے، جنہیں سیسمک زون کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہے ہیں، لیکن دو زلزلے ایسے رہے ہیں جنہیں سب سے زیادہ تباہ کن مانا جاتا ہے۔ ان میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جان گئی اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ زلزلوں سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ اب ہندوستان کی مختلف حکومتوں کو اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ ملک میں کسی وقت بھی شدید شدت کا زلزلہ آ سکتا ہے، اسی لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر 2014 تک جہاں صرف 80 سیسمک آبزرویٹریز تھیں، وہیں 2025 تک ان کی تعداد بڑھ کر 168 ہو چکی ہے۔ اسی طرح پورے ملک میں ارتھ کوئیک ارلی وارننگ سسٹم شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اتراکھنڈ میں تو سال 2021 میں ہی ارتھ کوئیک ارلی وارننگ سسٹم نافذ کر دیا گیا تھا۔ اس نظام سے حاصل ہونے والی معلومات بھودیو(بھوکمپ ڈیزاسٹر ارلی ویجیلنٹ) ایپ پر بھیجی جاتی ہیں۔ ایک طرف جہاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زلزلے کے خطرات سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب عوام میں بیداری پیدا کرنا بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت این ڈی ایم اے نے رواں سال مارچ میں ’’آپدا کا سامنا‘‘ کے نام سے ایک بیداری مہم شروع کی تھی، جسے دوردرشن پر نشر کیا گیا۔ اسی طرح سال 2016 میں وزیر اعظم مودی نے بھی زلزلوں کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ایک 10 نکاتی ایجنڈا تیار کیا تھا۔ اس وقت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے لیے ان اقدامات کو ضروری مانا گیا تھا، جن میں ارلی وارننگ سسٹم کے نفاذ سے لے کر انشورنس پالیسیوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں شامل تھیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments