National

جسٹس سوریہ کانتا شرما نے شراب پالیسی معاملے سے خود کو کیا الگ، دوسری بینچ کرے گی سماعت

جسٹس سوریہ کانتا شرما نے شراب پالیسی معاملے سے خود کو کیا الگ، دوسری بینچ کرے گی سماعت

نئی دہلی: جسٹس سوریہ کانتا شرما نے شراب پالیسی کی سماعت سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت شرما نے کہا کہ انہوں نے اروند کیجریوال کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے اوراب اس معاملے کی سماعت کوئی اوربینچ کرے گی۔ جسٹس شرما صرف توہین عدالت کیس کی سماعت کریں گی۔ دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، سنجے سنگھ، سوربھ بھاردواج اور درگیش پاٹھک کے خلاف جسٹس سوریہ کانتا شرما پرکئے گئے تبصروں سے متعلق عدالت کی توہین کی کارروائی شروع کی۔ جسٹس سوریہ کانتا شرما نے کہا کہ ان لیڈران کا طرزعمل مجرمانہ توہین کے دائرے میں آتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت ہمدردی یا تنقید سے استثنیٰ نہیں مانگ رہی ہے۔ عدالتی احکامات پرمنصفانہ تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن عدالت کے مطابق اس کیس میں کئے گئے تبصرے عام تنقید سے آگے بڑھ کرعدلیہ کے وقاراورعوامی اعتماد کومتاثرکرتے ہیں۔ جسٹس سورن کانتا شرما نے کہا کہ اگرآپ عدالت کو بدنام کرتے ہیں تو عدالت کے پاس وہ ہتھیارہے اوراسے استعمال کرے گی۔ آپ سے تالیوں کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالت ایسے احکامات جاری کرتی رہے گی، جب جب لوگ سسٹم کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے۔ جسٹس سورن کانتا شرما نے کہا، ”میرا خاموش رہنا شاید میرے لئے آرام دہ ہوتا، لیکن اس کا مطلب ہوتا میرا اپنے فرض کونہیں نبھانا۔ ایسا میں نے نہیں سیکھا ہے۔ میں یہ نہیں چاہتی کہ اس حکم کواس طرح چلایا جائے کہ یہ عدالت آزادی اظہاراورمنصفانہ تنقید کوپسند نہیں کرتی، لیکن منصفانہ تنقید اورحقارت کے درمیان ایک بہت ہی پتلی لکیرہوتی ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ “مجھ جیسے جج آئیں گے اورجائیں گے، لیکن انصاف کا ادارہ قائم رہے گا۔ ان ججوں کویاد رکھا جائے گا، جوبدنام کرنے کی ایسی کوششوں کے سامنے نہیں جھکے۔ ہندوستانی قانون ہمیشہ سے بے خوف رہا ہے اورہمیشہ رہے گا۔ جب اروند کیجریوال یہاں پیش ہوئے توانہوں نے کہا کہ وہ میرا احترام کرتے ہیں۔ اس عدالت نے بھی ان کوکہا کہ یہ کورٹ ان کا احترام کرتی ہے۔” جسٹس سورن کانتا شرما نے کہا، “”اس کیس کوکوئی بھی سن سکتا تھا، لیکن توہین عدالت کا معاملہ صرف میں ہی لگا سکتی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے جوعدلیہ کے خلاف اس طرح کی مہم چلاتے ہیں۔ منصفانہ تنقید اورتوہین کے درمیان بہت پتلی لکیرہوتی ہے… ممکن ہے کہ اگرمیں اس کیس کوسنتی رہوں تواروند کیجریوال اور دوسرے لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ مجھ میں رنجش ہے۔”

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments